صحیح بخاری حدیث ۶۲۶ - فجر سے پہلے دو ہلکی رکعتیں

سنت فجر اور دائیں کروٹ لیٹنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۶

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ أَنْ يَسْتَبِينَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ " .

عائشہ روایت:

جب مؤذن صبح کی دوسری اذان دے کر چپ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرض سے پہلے دو رکعت (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد پھر داہنی کروٹ پر لیٹ رہتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فجر سے پہلے کا عمل بیان کیا۔ جب مؤذن صبح کی اذان دے کر خاموش ہوتا، اور فجر واضح ہو جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز سے پہلے دو ہلکی رکعتیں ادا فرماتے۔ پھر آپ دائیں کروٹ پر لیٹتے رہتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کی اطلاع دینے کے لیے آتا۔ اس حدیث کا موضوع سنت فجر ہے۔ اس میں نماز کے انداز کی سادگی بھی ہے اور وقت کی پابندی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ہلکی پڑھیں، پھر اقامت تک آرام فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر سے پہلے دو ہلکی رکعتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہیں۔
  • یہ دو رکعتیں صبح صادق واضح ہونے کے بعد پڑھی گئیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اقامت تک دائیں کروٹ لیٹتے تھے۔
  • عبادت میں وقت، سکون اور ترتیب کا خیال رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں