صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۰ - تہجد اور سنت فجر

تہجد کی نماز اور فجر سے پہلے دو ہلکی رکعات

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، حَتَّى يَجِيءَ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں (تہجد کی) گیارہ رکعات پڑھتے تھے پھر جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو ہلکی رکعات (سنت فجر) پڑھتے۔ اس کے بعد آپ دائیں پہلو لیٹ جاتے آخر مؤذن آتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتا تو آپ فجر کی نماز پڑھاتے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے رات کے معمول کا ذکر ہے۔ آپ رات میں گیارہ رکعات نماز پڑھتے تھے۔ جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو ہلکی رکعات پڑھتے، پھر دائیں پہلو لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آ کر نماز کی اطلاع دیتا۔ اس حدیث کا اصل تعلق تہجد، سنت فجر اور نماز کے نظم سے ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک صاف عملی نقشہ ہے کہ رات کی نماز کے بعد فجر سے پہلے دو مختصر رکعات ادا کی گئیں۔ اس میں آرام، انتظار اور نماز کی تیاری بھی نظر آتی ہے، مگر ہر بات اسی حد تک ہے جو حدیث کے متن میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم رات میں نماز کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔
  • فجر کے بعد دو ہلکی رکعات سنت فجر ادا کی گئیں۔
  • دائیں پہلو لیٹنا اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کے طور پر آیا ہے۔
  • نماز کے لیے مؤذن کی اطلاع کا انتظار بھی بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں