صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۹ - اللہ توبہ سے خوش ہوتا ہے
اللہ کی رحمت: بندے کی توبہ پر خوشی
صحیح بخاری : ۶۳۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ سَقَطَ عَلَى بَعِيرِهِ وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلَاةٍ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ مایوسی کے بعد اچانک اسے مل گیا ہو حالانکہ وہ ایک چٹیل میدان میں گم ہوا تھا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۹ کا خلاصہ
یہ حدیث توبہ کی امید دلانے والی حدیث ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ چٹیل میدان میں گم ہو گیا ہو، پھر مایوسی کے بعد اچانک مل جائے۔ اس مثال میں انسان کی بے بسی بھی ہے اور اچانک ملنے والی خوشی بھی۔ حدیث کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے بعد اللہ کی طرف لوٹے تو یہ عمل اللہ کے نزدیک محبوب ہے۔ اس میں یہ بات بھی ہے کہ توبہ کا دروازہ بندہ خود بند نہ کرے، بلکہ اپنی غلطی مان کر رب کی طرف واپس آئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توبہ بندے کو اللہ کی طرف واپس لاتی ہے۔
- گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔
- اللہ بندے کی توبہ کو پسند فرماتا ہے۔
- حدیث میں توبہ کی اہمیت ایک آسان مثال سے سمجھائی گئی ہے۔
