صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۶ - نقصان دہ چیزوں سے پناہ کی دعا

سستی، بخل اور بے فائدہ علم سے پناہ کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۰۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ لآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ : لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا " .

زید بن ارقم روایت:

میں تم سے وہی کہوں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِى تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا» یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری عاجزی اور سستی اور نامردی اور بخیلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے، یا اللہ! میرے نفس کو تقویٰ دے اور پاک کر دے اس کو، تو اس کا بہتر پاک کرنے والا ہے، تو اس کا آقا اور مولٰی ہے، یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری اس علم سے جو فائدہ نہ دے اور اس دل سے جو تیرے سامنے نہ جھکے اور اس جی جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث پناہ کی جامع دعا بیان کرتی ہے۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے وہی کلمات بیان کیے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فرمایا کرتے تھے۔ اس دعا میں عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ پھر نفس کے تقویٰ اور اس کی پاکیزگی کی دعا کی گئی ہے۔ اس کے بعد ایسے علم سے پناہ مانگی گئی جو فائدہ نہ دے، ایسے دل سے جو اللہ کے سامنے نہ جھکے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کو اپنی کمزوریوں سے آگاہ رہنا چاہیے اور دل، علم، نفس اور عمل کی اصلاح اللہ سے مانگنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سستی، بخل اور بزدلی سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • نفس کی پاکیزگی اور تقویٰ اللہ ہی سے مانگا جاتا ہے۔
  • علم وہی بہتر ہے جو فائدہ دے۔
  • دل میں خشوع اور نفس میں قناعت کی دعا کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں