صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۷ - صبح و شام کی مسنون دعا
شام کی دعا: رات کی خیر اور شر سے پناہ
صحیح مسلم : ۶۹۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۰۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى ، قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " . قَالَ الْحَسَنُ : فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا : لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شام ہوتی تو فرماتے: ” «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِى النَّارِ وَعَذَابٍ فِى الْقَبْرِ» ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی، شکر ہے اللہ کا، کوئی سچا معبود نہیں سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اسی کو تعریف لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے پروردگار! میں تجھ سے اس رات کی بہتری مانگتا ہوں اور اس رات کے بعد کی اور پناہ اس رات کی برائی سے اور اس کے بعد کی برائی سے، اے پروردگار! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے، اے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔“ (اور جب صبح ہوتی تو یہی دعا کرتے لیکن یوں فرماتے صبح کی ہم نے اور صبح کی اللہ کے ملک نے اخیر تک اور بجائے رات کے دن فرماتے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۷ کا خلاصہ
یہ حدیث صبح شام کی دعا کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب شام ہوتی تو اللہ کی بادشاہی، حمد اور توحید کا اقرار کرتے۔ پھر اس رات کی بھلائی اور اس کے بعد کی بھلائی مانگتے، اور اس رات کے شر اور اس کے بعد کے شر سے پناہ لیتے۔ دعا میں سستی، بڑھاپے کی برائی، جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ بھی شامل ہے۔ حدیث میں یہ بھی بیان ہوا کہ صبح کے وقت یہی دعا صبح کے الفاظ کے ساتھ پڑھی جاتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دن اور رات کے آغاز میں بندہ اللہ کی ملکیت، قدرت اور حفاظت کو یاد کرے اور اپنی ضرورت اللہ کے سامنے رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شام کے وقت اللہ کی حمد اور توحید کا اقرار کیا جائے۔
- رات کی خیر اللہ سے مانگنی چاہیے۔
- رات اور اس کے بعد کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- سستی، بڑھاپے کی برائی، آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگنا مسنون دعا میں شامل ہے۔
