صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۵ - عفت اور دل کی تونگری کی دعا
عفت، ہدایت اور تقویٰ کی دعا کا لفظی فرق
صحیح مسلم : ۶۹۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۰۵
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ : وَالْعِفَّةَ .
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں «وَالْعَفَافَ» کی بجائے «وَالْعِفَّةَ» کا لفظ ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۵ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی دعا کی ایک دوسری روایت بیان کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور دل کی تونگری مانگتے تھے۔ اس روایت میں خاص بات یہ ہے کہ لفظ عفاف کے بجائے عفت آیا ہے، اور ترجمے میں صاف بتا دیا گیا ہے کہ معنی ایک ہی ہے۔ اس سے قاری کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اصل مقصد حرام سے بچنے والی پاکیزہ زندگی مانگنا ہے۔ ہدایت اور تقویٰ کے ساتھ عفت اور غنی کا ذکر انسان کی اندرونی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ بندہ اللہ سے صرف ظاہری آسانی نہیں مانگتا، بلکہ دل، کردار اور راستے کی درستگی بھی مانگتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عفاف اور عفت کا معنی اس روایت میں ایک ہی بتایا گیا ہے۔
- پاکدامنی اللہ سے مانگنے والی نعمت ہے۔
- ہدایت، تقویٰ اور دل کی تونگری ایک جامع دعا میں جمع ہیں۔
- لفظی فرق کے باوجود اصل پیغام وہی رہتا ہے۔
