صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۲ - ہدایت اور سیدھا راستہ مانگنے کی دعا

اللہ سے ہدایت اور سیدھا راستہ مانگنے کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱۲

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور سیدھا راستے کا سوال کرتا ہوں، دعا مانگا کرو۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔“ باب: دن کے اول وقت اور سوتے وقت تسبیح کہنا

صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۲ کا خلاصہ

یہ روایت بھی ہدایت اور سداد یعنی سیدھے راستے کی دعا کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ دعا مانگا کرو: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور سیدھا راستہ مانگتا ہوں۔ پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر ہوئی، یعنی ہدایت کو راستے کی ہدایت اور سداد کو تیر کی سیدھ سے سمجھنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا پیغام صاف ہے کہ بندہ اپنی راہنمائی کے لیے اللہ کا محتاج ہے۔ انسان کو صرف نیک نیت کافی نہیں، بلکہ صحیح سمت اور درست عمل کے لیے بھی اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ یہ مختصر دعا روزمرہ زندگی میں بہت آسانی سے یاد رکھی جا سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ سے ہدایت اور سیدھا راستہ مانگنا چاہیے۔
  • دعا مختصر ہو تب بھی معنی بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔
  • درست سمت اور درست عمل دونوں اللہ کی توفیق سے ہیں۔
  • دعا کو سمجھ کر پڑھنے سے اس کا اثر دل پر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں