صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۱ - ہدایت اور راستی کی دعا

ہدایت اور سیدھی راہ کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱۱

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ : " اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ " ،

علی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کہہ «اللَّهُمَّ اهْدِنِى وَسَدِّدْنِى وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ» یا اللہ! ہدایت کر مجھ کو اور سیدھا کر دے مجھ کو اور فرمایا یہ دعا مانگتے وقت ہدایت سے راہ کی ہدایت اور راستی سے تیر کی راستی کا دھیان کیا کر۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۱ کا خلاصہ

یہ حدیث ہدایت اور راستی کی دعا سکھاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ کہو: یا اللہ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھا کر دے۔ پھر دعا کے الفاظ سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ہدایت سے راستے کی ہدایت کو یاد کرو، اور راستی سے تیر کی سیدھ کو دھیان میں رکھو۔ اس سے دعا کے معنی عام فہم انداز میں واضح ہو جاتے ہیں۔ بندہ اللہ سے صرف راستہ جاننے کی دعا نہیں کرتا، بلکہ اس راستے پر سیدھا رہنے کی دعا بھی کرتا ہے۔ ہدایت کی دعا انسان کی سوچ، عمل اور سمت کو درست کرنے کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ سداد یعنی راستی بندے کو سیدھا اور درست بننے کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدایت اللہ سے مانگنی چاہیے۔
  • دعا کے معنی سمجھ کر مانگنا بہتر فہم پیدا کرتا ہے۔
  • راستی سے مراد سیدھا اور درست ہونا ہے۔
  • صحیح راستہ جاننا اور اس پر سیدھا رہنا دونوں اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں