صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۳ - سبحان اللہ وبحمدہ کی عظیم تسبیح

سبحان اللہ وبحمدہ: صبح کی عظیم تسبیح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وابن أبي عمر واللفظ لابن أبي عمر ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ ، فَقَالَ : " مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ " ،

جویریہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے ان کے پاس سے نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی وہ اپنی نماز کی جگہ میں تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت لوٹے، دیکھا تو وہ وہیں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی حال میں رہیں جب سے میں نے تم کو چھوڑا۔“ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار کلمے کہے تین بار اگر وہ تولے جائیں ان کلموں کے ساتھ جو تو نے اب تک کہے ہیں البتہ وہی بھاری پڑیں گے وہ کلمے یہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» یعنی میں اللہ کی پاکی بولتا ہوں خوبیوں کے ساتھ اس کی مخلوقات کے شمار کے برابر اور اس کی رضا مندی اور خوشی کے برابر اور اس کے عرش کے تول کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر (یعنی بے انتہا اس لیے کہ اللہ کے کلموں کی کوئی حد نہیں، سارا سمندر اگر سیاہی ہو وہ ختم ہو جائے اور اللہ کے کلمے تمام نہ ہوں)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۳ کا خلاصہ

یہ حدیث تسبیح کے بارے میں ہے۔ ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا صبح نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھی تھیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بعد میں واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ اسی حال میں تھیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے بعد چار کلمات تین بار کہے، اگر وہ تمہارے اب تک کے کلمات کے ساتھ تولے جائیں تو وہ بھاری پڑیں گے۔ وہ کلمات ہیں: سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ ورضا نفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی پاکی اور حمد ایسے جامع الفاظ میں بیان کرنا بڑی اہم بات ہے۔ یہاں اصل توجہ انہی الفاظ پر ہے جو مخلوق کے شمار، اللہ کی رضا، عرش کے وزن اور کلمات کی وسعت کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صبح کے وقت اللہ کی تسبیح اور حمد کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • جامع الفاظ والی تسبیح کا خاص وزن بیان ہوا ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے یہ کلمات تین بار کہے۔
  • اللہ کی پاکی اور حمد کو وسیع معنی والے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں