صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۵ - سونے سے پہلے تسبیح فاطمہ

سونے سے پہلے تسبیح فاطمہ: خادم سے بہتر عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى مَكَانِكُمَا ، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ " ،

سیدنا علی روایت:

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں یا انہوں نے شکایت کی اس تکلیف کی جو ان کی ہوتی تھی چکی پینے میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آئے وہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں ان سے یہ حال بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کا حال۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم اپنے بچھونے پر جا چکے تھے، ہم نے چاہا کھڑے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو“، پھر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے (یعنی میاں بی بی کے بیچ میں) یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم دونوں کو وہ نہ بتاؤں جو بہتر ہے اس سے جو مانگا تم نے (یعنی خادم سے) جب تم دونوں لیٹو تو اللہ اکبر کہو چونتیس بار اور سبحان اللہ تینتیس بار اور الحمد اللہ تینتیس بار یہ تمہارے لیے بہتر ہے ایک خادم سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۵ کا خلاصہ

یہ حدیث سونے سے پہلے کے ذکر کے بارے میں ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے تکلیف ہوتی تھی، اس لیے وہ خادم کے بارے میں عرض کرنے گئیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے پاس آ کر فرمایا کہ میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے مانگے ہوئے خادم سے بہتر ہے؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سونے کے وقت اللہ اکبر چونتیس بار، سبحان اللہ تینتیس بار اور الحمدللہ تینتیس بار کہنے کی تعلیم دی۔ اس حدیث میں گھر کے کام کی مشقت بھی سامنے آتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے سونے سے پہلے ذکر کی ایک خاص ترتیب سکھائی۔ یہ عمل تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہے، مگر یہاں اصل الفاظ اور تعداد حدیث کے مطابق بیان کیے گئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سونے سے پہلے اللہ اکبر 34 بار کہا جائے۔
  • سبحان اللہ اور الحمدللہ 33، 33 بار کہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے خادم سے بہتر بتایا۔
  • گھریلو مشقت کے موقع پر ذکر کی تعلیم دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں