وراث کے مقررہ حصوں کا بیان
صحیح مسلم : ۴۱۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
سیدنا اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وارث ہو گا کافر مسلمان کا نہ مسلمان کافر کا۔“
صحیح مسلم : ۴۱۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حصہ والوں کو ان کے حصے دے دو پھر جو بچے وہ اس شخص کا ہے جو سب سے زیادہ میت سے نزدیک ہو۔“
صحیح مسلم : ۴۱۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۲
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بانٹ دو مال کو اصحاب فرائض میں موافق اللہ تعالیٰ کی کتاب کے پھر جو بچ رہے ان سے وہ نزدیک والے مرد کا حصہ ہے۔“ (مثلاً بیٹے کا یا پوتے کا اس کے بعد باپ کا اس کے بعد بھائی یا دادا کا اس کے بعد بھتیجے کا یا بھتیجے کے بیٹوں کا یا پوتوں کا اس کے بعد چچا کا اس کے بعد چچا کے بیٹوں کا اس کے بعد باپ کے چچا کا اس کے بعد ان کے بیٹوں کا اس کے بعد دادا کے چچا کا اس کے بعد اس کے بیٹوں کا اس کے بعد باپ کے دادا کے چچا کا اس کے بعد اس کے بیٹوں کا علیٰ ہذا القیاس اور حقیقی مقدم ہو گا علاقی اور علاقی بھائی حقیقی بھتیجے پر مقدم ہو گا)۔
