حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وارث ہو گا کافر مسلمان کا نہ مسلمان کافر کا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حصہ والوں کو ان کے حصے دے دو پھر جو بچے وہ اس شخص کا ہے جو سب سے زیادہ میت سے نزدیک ہو۔“
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بانٹ دو مال کو اصحاب فرائض میں موافق اللہ تعالیٰ کی کتاب کے پھر جو بچ رہے ان سے وہ نزدیک والے مرد کا حصہ ہے۔“ (مثلاً بیٹے کا یا پوتے کا اس کے بعد باپ کا اس کے بعد بھائی یا دادا کا اس کے بعد بھتیجے کا یا بھتیجے کے بیٹوں کا یا پوتوں کا اس کے بعد چچا کا اس کے بعد چچا کے بیٹوں کا اس کے بعد باپ کے چچا کا اس کے بعد ان کے بیٹوں کا اس کے بعد دادا کے چچا کا اس کے بعد اس کے بیٹوں کا اس کے بعد باپ کے دادا کے چچا کا اس کے بعد اس کے بیٹوں کا علیٰ ہذا القیاس اور حقیقی مقدم ہو گا علاقی اور علاقی بھائی حقیقی بھتیجے پر مقدم ہو گا)۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ ، فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " ،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”مال اللہ کی کتاب کے مطابق اہل فرائض میں تقسیم کرو اور جو کچھ ذوی الفروض چھوڑیں قریبی مرد اس کا زیادہ حقدار ہے۔“
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ ، وَرَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي مَاشِيَيْنِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَأَفَقْتُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 " .
میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں پیدل میرے پوچھنے کو آئے۔ میں بے ہوش ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا مجھے ہوش آ گیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کا کیا فیصلہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت اتری: «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى الْكَلاَلَةِ» (۴-النساء:۱۷۶) اخیر تک۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ يَمْشِيَانِ ، فَوَجَدَنِي لَا أَعْقِلُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ ، فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 " .
بیمار پرسی کی میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی سلمہ میں پیدل آ کر تو دیکھا مجھے بے ہوش۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور وضو کیا۔ پھر اس پانی سے تھوڑا مجھ پر چھڑکا، مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ (یعنی کیونکر بانٹوں) تب یہ آیت اتری:«يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِى أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ» (۴-النساء:۱۱) اخیر تک۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ ، فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَأَفَقْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی اور میں بیمار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور دونوں پیدل آئے۔ مجھ کو بے ہوش پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا، مجھے ہوش آ گیا دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت اتری۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ ، فَتَوَضَّأَ فَصَبُّوا عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَعَقَلْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ " ، فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 ، قَالَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں بیمار تھا بے ہوش۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا، مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا ترکہ تو کلالہ کا ہو گا (کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو نہ باپ۔ اس کی تفسیر آگے آئے گی) تب میراث کی آیت اتری۔ شعبہ نے کہا: میں نے محمد بن منکدر سے کہا: «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى الْكَلاَلَةِ» انہوں نے کہا: اسی طرح اتری۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ ، وَالْعَقَدِيِّ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ شُعْبَةَ ، لِابْنِ الْمُنْكَدِرِ .
اوپر والی حدیث اس سند سے بھی بیان ہوئی ہے۔