وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ يَخْطُبُ ، قَالَ : فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا : " أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَا يُدْرَى حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ ، قَالَ : " فَتَصَدَّقْنَ " ، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلُمَّ فِدًى لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ .
میں گیا نماز فطر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم سب کے ساتھ، تو ان سب بزرگوں کا قاعدہ تھا کہ نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے اور اس کے بعد خطبہ پڑھتے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اترے یعنی خطبہ پڑھ کر گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں، جب انہوں نے لوگوں کو ہاتھ سے اشارہ کر کے بٹھانا شروع کیا۔پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی«يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (60-الممتحنة:12یہاں تک کہ فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اور پھر فرمایا: ”تم نے اس سب کا اقرار کیا۔“ اس میں سے ایک عورت نے کہا کہ ہاں اے نبی اللہ تعالیٰ کے۔ راوی نے کہا: معلوم نہیں وہ کون تھی۔ پھر انہوں نے صدقہ دینا شروع کیا۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا اور کہا: لاؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، اور وہ سب چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ " ، قَالَ : " ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ " .
میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی خطبہ سے پہلے اور خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ عورتوں نے نہیں سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ اور عورتوں میں سے کوئی انگوٹھی ڈالتی اور کوئی چھلا اور کوئی اور کچھ۔
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَبِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
اسماعیل بن ابراہیم نے روایت کی ایوب سے اسی اسناد سے مثل اس کے۔
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رافع ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَى النِّسَاءَ ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ ؟ " قَالَ : " لَا وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ " ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ ؟ " قَالَ : " إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ " .
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے پہلے نماز پڑھی۔ پھر لوگوں پر خطبہ پڑھا اور جب فارغ ہوئے اترے اور عورتوں میں تشریف لائے اور ان کو نصیحت کی اور وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ تکیہ لگائے ہوئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ اور عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں راوی نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا کہ یہ صدقہ فطر تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ اور صدقہ تھا کہ دہ دیتی تھیں۔ غرض ہر عورت چھلے ڈالتی تھی اور پھر دوسری اور پھر تیسری۔میں نے عطاء سے کہا کہ اب بھی امام کو واجب ہے کہ عورتوں کے پاس جائے۔ جب خطبہ سے فارغ ہو اور ان کو نصیحت کرے تو انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ قسم ہے مجھے اپنی جان کی بے شک اماموں کا حق ہے کہ ان کے پاس جائیں۔ اور اللہ جانے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اب اس پر عمل نہیں کرتے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ " ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ ، فَقَالَتْ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " ، قَالَ : فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ ، يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ .
میں نماز عید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی بغیر اذان اور تکبیر کے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر تکیہ لگا کر کھڑے ہوئے اور حکم کیا اللہ سے ڈرنے کا اور ترغیب دی اس کی فرمانبرداری کی اور لوگوں کو سمجھایا اور نصیحت کی۔پھر عورتوں کے پاس گئے اور ان کو سمجھایا بجھایا اور فرمایا: ”خیرات کرو کہ اکثر تم میں سے جہنم کا ایندھن ہیں۔“ سو ایک عورت ان کے بیچ سے کھڑی ہو گئی پچکے رخساروں والی اور اس نے عرض کی کہ کیوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لئے کہ شکایت بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری۔“ راوی نے کہا: پھر خیرات کرنے لگیں اپنے زیوروں میں سے اور ڈالتی تھیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنے کانوں کی بالیں اور ہاتھوں کے چھلے۔
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَا : لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَخْبَرَنِي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، " أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ ، وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ ، وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ " .
اذان نہ عیدالفطر میں ہوتی تھی اور نہ عید الاضحیٰ میں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا تھوڑی دیر کے بعد اسی بات کو، (یہ قول ہے ابن جریج راوی کا) تو انہوں نے کہا (یعنی ان کے شیخ عطاء نے) کہ خبر دی مجھے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ نہ اذان ہوتی تھی عیدالفطر میں جب نکلتا تھا اور نہ بعد اس کے نکلنے کے اور نہ تکبیر ہوتی، نہ اذان اور نہ اور کچھ وہ دن ایسا ہے کہ اس دن نہ اذان ہے نہ تکبیر۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ ، " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا ، قَالَ : فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ ، قَالَ : فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ " .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پیغام بھیجا سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف جب ان سے اول اول لوگوں نے بیعت کی تھی کہ نماز فطر میں اذان نہیں دی جاتی، سو تم آج اذان نہ دلوانا، تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اذان نہیں دلوائی اور یہ بھی کہلا بھیجا کہ خطبہ، نماز کے بعد ہونا چاہیئے اور وہ یہی کرتے تھے، سو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھی۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
میں نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں عیدوں کی کئی بار بغیر اذان کے اور اقامت کے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ " .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما یہ سب عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ ، فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ ، أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا ، وَكَانَ ، يَقُولُ : " تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا " ، وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى ، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ ، وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ ، قُلْتُ : أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ : لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ ، قُلْتُ : كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید قربان اور عید الفطر میں جب نکلتے تو پہلے نماز پڑھتے۔ پھر جب نماز کا سلام پھیرتے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے اور لوگ سب بیٹھے رہتے اپنی نماز کی جگہ پر۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر روانہ کرنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے بیان کرتے یا اور کوئی کام ہوتا تو اس کا حکم دیتے اور فرماتے: ”صدقہ دو، صدقہ دو، صدقہ دو۔“ اور اکثر عورتیں اس دن صدقہ دیتیں پھر گھر کو لوٹتے۔غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ مروان بن حکم حاکم ہوا اور میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ دے کر نکلا یہاں تک کہ عید گاہ میں آئے اور وہاں کثیر بن حلت نے ایک منبر بنا رکھا تھا گارے اور اینٹوں سے۔ مروان نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگا گویا وہ مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور میں اس کو نماز کی طرف پھر جب میں نے یہ دیکھا تو اس سے کہا: نماز کا پہلے پڑھنا کہاں گیا؟اس نے کہا: اے ابوسعید! چھٹ گئ وہ سنت جو تم جانتے ہو۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے تم بہتر کام کر سکو اس سے جو میں چاہتا ہوں، (یعنی بدعت سنت کے برابر نہیں ہو سکتی، بہتر ہونا تو کجا) غرض یہ بات میں نے اس سے تین بار کہی پھر لوٹ گیا۔