نماز عیدین کے احکام و مسائل
صحیح مسلم : ۲۰۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۴۴
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ يَخْطُبُ ، قَالَ : فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا : " أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَا يُدْرَى حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ ، قَالَ : " فَتَصَدَّقْنَ " ، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلُمَّ فِدًى لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں گیا نماز فطر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم سب کے ساتھ، تو ان سب بزرگوں کا قاعدہ تھا کہ نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے اور اس کے بعد خطبہ پڑھتے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اترے یعنی خطبہ پڑھ کر گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں، جب انہوں نے لوگوں کو ہاتھ سے اشارہ کر کے بٹھانا شروع کیا۔ پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (60-الممتحنة:12) یہاں تک کہ فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اور پھر فرمایا: ”تم نے اس سب کا اقرار کیا۔“ اس میں سے ایک عورت نے کہا کہ ہاں اے نبی اللہ تعالیٰ کے۔ راوی نے کہا: معلوم نہیں وہ کون تھی۔ پھر انہوں نے صدقہ دینا شروع کیا۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا اور کہا: لاؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، اور وہ سب چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
صحیح مسلم : ۲۰۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۴۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ " ، قَالَ : " ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ " .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی خطبہ سے پہلے اور خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ عورتوں نے نہیں سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ اور عورتوں میں سے کوئی انگوٹھی ڈالتی اور کوئی چھلا اور کوئی اور کچھ۔
صحیح مسلم : ۲۰۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۴۶
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَبِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
اسماعیل بن ابراہیم نے روایت کی ایوب سے اسی اسناد سے مثل اس کے۔
