وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیماروں کو جو قریب مرنے کے ہوں ان کو «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» سکھاؤ۔“
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ جَمِيعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابنا أبي شيبة . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب المرگ کو «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» کی تلقین کرو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي ، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " . قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ ، فَقَالَ : أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا ، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ اس کو مصیبت پہنچے اور وہ یہ کہے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِى فِى مُصِيبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا» جو اللہ نے حکم کیا ہے کہ سب اللہ کا مال ہیں اور ہم سب اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا ثواب دے اور اس کے بدلہ میں اس سے اچھی عنایت فرما مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر چیز اس کو دیتا ہے۔“سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ابوسلمہ (یعنی ان کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے کہا: اب ان سے بہتر کون ہو گا، اس لئے کہ ان کا پہلا گھر تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی تھی۔ پھر میں نے یہی دعا پڑھی «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِى فِى مُصِيبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا» تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شوہر بنا دیا۔کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بن ابی بلتعہ کو روانہ کیا۔ وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دینے آئے، میں نے عرض کیا کہ میری ایک بیٹی ہے اور مجھ میں غصہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی بیٹی کے لئے تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ اللہ ان کو بیٹی کے فکر سے بے غم کر دے گا اور ان کے غصہ کے لئے ہم دعا کریں گے وہ اللہ کھو دے گا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي ، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی مسلمان بندے کو کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ «إِنَّا لِلَّـہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ» اور «اللَّهُمَّ أْجُرْنِى فِى مُصِيبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَيْرًا مِنْهَا. إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا» کہتا ہے تو اللہ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتے ہیں۔ اور اس کا نعم البدل عطا کرتے ہیں۔“ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کہا تو اللہ نے میرے لئے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر (شوہر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، وَزَادَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي ، فَقُلْتُهَا ، قَالَتْ : فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ویسی ہی حدیث سنی۔ اس میں فرمایا: جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا: صحابی رسول سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو گا؟ پھر اللہ نے میرے لئے عزم عطا فرمایا تو میں نے اس دعا کو پڑھ لیا۔ فرماتی ہیں: پھر میرا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیمار کے پاس آؤ یا میت کے پاس تو اچھی بات کہو اس لئے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں اس پر جو تم کہتے ہو۔“ کہتی ہیں کہ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں دعا کر «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى وَلَهُ وَأَعْقِبْنِى مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً» یعنی ”اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس سے اچھا بدلہ عطا فرما“۔ کہتی ہیں کہ میں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے اچھا بدل عطا کیا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ " .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو آئے اور ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، پھر ان کو بند کر دیا اور فرمایا: ”جب جان نکلتی ہے تو آنکھیں اس کے پیچھے لگی رہتی ہیں۔“ اور لوگوں نے ان کے گھر میں رونا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے لئے اچھی ہی دعا کرو اس لئے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں تمہاری باتوں پر۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِى سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِى الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِى عَقِبِهِ فِى الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِى قَبْرِهِ. وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» ”یا اللہ! بخش دے ابوسلمہ کو اور بلند کر ان کا درجہ ہدایت والوں میں اور تو خلیفہ ہو جا ان کے باقی رہنے والے عزیزوں میں اور بخش دے ہم کو اور ان کو اے پالنے والے عالموں کے اور کشادہ کر ان کی قبر کو اور روشنی کر اس میں۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ " ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ " ، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ : " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا " .
خالد الخداء نے اسی اسناد سے، مانند اوپر کی روایت کے اور اس میں یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا: «وَاخْلُفْهُ فِى تَرِكَتِهِ» ”یا اللہ! خلیفہ ہو تو ان کے بال بچوں میں جو یہ چھوڑ مرے ہیں۔“ اور کہا کہ «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِى قَبْرِهِ» ”یا اللہ! ان کی قبر چوڑی کر۔“ اور «افْسَحْ» کا لفظ نہیں کہا اور یہ بھی زیادہ کیا کہ خالد نے کہا اور ایک دعا کی ساتویں چیز کے لئے کہ وہ میں بھول گیا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آدمی کو دیکھو کہ جب مر جاتا ہے تو آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی نگاہ جان کے پیچھے جاتی ہے۔“