صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۹ - بیمار یا میت کے پاس اچھی بات
بیمار یا میت کے پاس اچھی بات کہنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۱۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ام سلمہ روایت:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیمار کے پاس آؤ یا میت کے پاس تو اچھی بات کہو اس لئے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں اس پر جو تم کہتے ہو۔“ کہتی ہیں کہ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں دعا کر «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى وَلَهُ وَأَعْقِبْنِى مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً» یعنی ”اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس سے اچھا بدلہ عطا فرما“۔ کہتی ہیں کہ میں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے اچھا بدل عطا کیا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم بیمار کے پاس آؤ یا میت کے پاس تو اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔ پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی: اے اللہ! مجھے اور اسے بخش دے اور مجھے اس سے اچھا بدلہ عطا فرما۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا پڑھی، تو روایت کے مطابق اللہ نے انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے۔ اس حدیث میں بیمار کی عیادت، میت کے پاس دعا، اچھی بات، فرشتوں کی آمین اور غم میں دعا جیسے موضوعات آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیمار یا میت کے پاس اچھی بات کہنی چاہیے۔
- فرشتے انسان کی کہی ہوئی بات پر آمین کہتے ہیں۔
- غم کے وقت اپنے لیے اور میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
- سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی۔
