صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۰ - میت کے لیے مغفرت کی دعا

میت کے لیے دعا: قبر کی کشادگی اور مغفرت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۳۰

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ " .

‏‏‏‏ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو آئے اور ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، پھر ان کو بند کر دیا اور فرمایا: ”جب جان نکلتی ہے تو آنکھیں اس کے پیچھے لگی رہتی ہیں۔“ اور لوگوں نے ان کے گھر میں رونا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے لئے اچھی ہی دعا کرو اس لئے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں تمہاری باتوں پر۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِى سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِى الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِى عَقِبِهِ فِى الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِى قَبْرِهِ. وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» ”یا اللہ! بخش دے ابوسلمہ کو اور بلند کر ان کا درجہ ہدایت والوں میں اور تو خلیفہ ہو جا ان کے باقی رہنے والے عزیزوں میں اور بخش دے ہم کو اور ان کو اے پالنے والے عالموں کے اور کشادہ کر ان کی قبر کو اور روشنی کر اس میں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بند کیا اور فرمایا کہ جب روح قبض ہوتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے جاتی ہے۔ گھر کے لوگ رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لیے اچھی ہی دعا کرو، کیونکہ فرشتے تمہاری باتوں پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے لیے مغفرت، درجہ بلند ہونے، گھر والوں کے لیے خیر، قبر کی کشادگی اور قبر میں نور کی دعا کی۔ اس حدیث میں میت کی دعا، آنکھ بند کرنا، اچھی بات، فرشتوں کی آمین اور قبر کی دعا کے اہم الفاظ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میت کی آنکھیں بند کرنا اس روایت سے ثابت ہے۔
  • غم کے وقت اپنے خلاف یا بری بات نہیں کہنی چاہیے۔
  • میت کے لیے مغفرت، درجہ اور قبر کی کشادگی کی دعا کرنی چاہیے۔
  • فرشتے انسان کی بات پر آمین کہتے ہیں، اس لیے اچھی بات ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں