صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۲ - موت کے وقت آنکھیں کھلی رہنا

موت کے وقت آنکھیں کھلی کیوں رہ جاتی ہیں؟ حدیث کی وضاحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۳۲

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آدمی کو دیکھو کہ جب مر جاتا ہے تو آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی نگاہ جان کے پیچھے جاتی ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انسان جب مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نگاہ اس کی جان کے پیچھے جاتی ہے۔ اس حدیث میں موت کے وقت آنکھیں کھلی رہنا، روح قبض ہونا، نگاہ کا جان کے پیچھے جانا اور موت کی کیفیت جیسے موضوعات آتے ہیں۔ حدیث کا مقصد اسی خاص بات کی خبر دینا ہے۔ اس میں نہ لمبی تفصیل ہے نہ کسی اور عمل کا حکم، بلکہ صرف موت کے وقت آنکھوں کی حالت کی وجہ بتائی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • موت کے وقت آنکھیں کھلی رہ جانے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ نگاہ جان کے پیچھے جاتی ہے۔
  • ایسی باتوں میں حدیث کے الفاظ تک رہنا چاہیے۔
  • موت انسان کو اللہ کی طرف واپسی یاد دلاتی ہے، جیسا کہ روایت کے مضمون سے سمجھ آتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں