صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۸ - ابوسلمہ کے بعد ام سلمہ کی دعا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی دعا: مصیبت میں اللہ سے امید
صحیح مسلم : ۲۱۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۲۸
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، وَزَادَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي ، فَقُلْتُهَا ، قَالَتْ : فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ام سلمہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ویسی ہی حدیث سنی۔ اس میں فرمایا: جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا: صحابی رسول سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو گا؟ پھر اللہ نے میرے لئے عزم عطا فرمایا تو میں نے اس دعا کو پڑھ لیا۔ فرماتی ہیں: پھر میرا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی حدیث سنی۔ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے دل میں یہ بات آئی کہ ابوسلمہ جیسے صحابی رسول سے بہتر کون ہوگا؟ پھر اللہ نے انہیں عزم عطا فرمایا اور انہوں نے وہ دعا پڑھ لی۔ اس کے بعد روایت میں ہے کہ ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔ یہ حدیث مصیبت کی دعا، انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اجرنی فی مصیبتی اور اللہ سے بہتر بدل کی امید کے موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ پہلو آتا ہے کہ غم کے وقت دل پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا، مگر اللہ بندے کو دعا کی توفیق دے دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم میں انسان کے دل میں مختلف خیالات آ سکتے ہیں۔
- اللہ سے عزم ملے تو بندہ دعا کی طرف آ سکتا ہے۔
- مصیبت کی دعا پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ہے۔
- ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اسی دعا کے عمل کو بیان کرتا ہے۔
