صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۶ - مصیبت کے وقت پڑھنے کی دعا
مصیبت کے وقت کی دعا: انا للہ وانا الیہ راجعون
صحیح مسلم : ۲۱۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۲۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي ، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " . قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ ، فَقَالَ : أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا ، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ .
ام سلمہ روایت:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ اس کو مصیبت پہنچے اور وہ یہ کہے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِى فِى مُصِيبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا» جو اللہ نے حکم کیا ہے کہ سب اللہ کا مال ہیں اور ہم سب اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا ثواب دے اور اس کے بدلہ میں اس سے اچھی عنایت فرما مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر چیز اس کو دیتا ہے۔“سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ابوسلمہ (یعنی ان کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے کہا: اب ان سے بہتر کون ہو گا، اس لئے کہ ان کا پہلا گھر تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی تھی۔ پھر میں نے یہی دعا پڑھی «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِى فِى مُصِيبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا» تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شوہر بنا دیا۔کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بن ابی بلتعہ کو روانہ کیا۔ وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دینے آئے، میں نے عرض کیا کہ میری ایک بیٹی ہے اور مجھ میں غصہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی بیٹی کے لئے تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ اللہ ان کو بیٹی کے فکر سے بے غم کر دے گا اور ان کے غصہ کے لئے ہم دعا کریں گے وہ اللہ کھو دے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مصیبت کے وقت پڑھنے کی دعا نقل ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کو مصیبت پہنچے اور وہ کہے: انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منہا، تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اس کے بدلے بہتر عطا فرماتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے انتقال پر یہی دعا پڑھی۔ پھر روایت میں بتایا گیا کہ اللہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شوہر بنا دیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مصیبت کی دعا، صبر، اجر اور بہتر بدل ہے۔ یہاں انسان کو غم میں اللہ کی طرف پلٹنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہنا چاہیے۔
- دعا میں اللہ سے مصیبت کا اجر اور بہتر بدل مانگنا سکھایا گیا ہے۔
- غم کے وقت بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے۔
- ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس دعا پر عمل کیا جیسا کہ روایت میں آیا ہے۔
