قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
صحیح مسلم : ۴۳۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۴۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ يَحْيَى : وَحَسِبْتُ ، قَالَ : وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا ، قَالَا : " خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ فِي السِّنِّ ، فَصَمَتَ فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ ، قَالُوا : وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ ؟ ، قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ، قَالُوا : وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ " .
سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے، یحییٰ نے کہا: شاید بشیر نے رافع بن خدیج کا بھی نام لیا کہ ان دونوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن سہل بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہ دونوں نکلے جب خیبر میں پہنچے تو الگ الگ ہو گئے۔ پھر سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو کسی نے مار کر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے دفن کیا عبداللہ کو پھر آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل۔ عبدالرحمٰن سے سب سے چھوٹے تھے انہوں نے چاہا بات کرنا اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سن میں بڑا ہے اس کی بڑائی کر۔“ (یعنی اس کو بات کرنے دے حالانکہ عبدالرحمٰن مقتول کے حقیقی بھائی تھے اور محیصہ اور حویصہ چچا کے بیٹے تھے پر یہاں دعویٰ سے غرض نہ تھی صرف واقعات سننے تھے۔) عبدالرحمٰن چپ ہو رہا اور حویصہ اور محیصہ نے باتیں کیں، عبدالرحمٰن بھی ان کے ساتھ بولا، پھر بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے مارے جانے کے مقام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تینوں سے ”تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے مورث کا خون حاصل کرتے ہو۔“ (یعنی قصاص یا دیت اور وارث تو صرف عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کی طرف خطاب کیا اور غرض یہی تھی کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ قسم کھائیں) تینوں نے کہا: ہم کیونکر قسم کھائیں؟ خون کے وقت ہم نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اس الزام سے بری ہو جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ہم کافروں کی قسمیں کیونکر قبول کریں گے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھا تو دیت دی۔ (اپنے پاس سے)۔
صحیح مسلم : ۴۳۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۴۳
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ " أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَبِّرِ الْكُبْرَ ، أَوَ قَالَ : لِيَبْدَأْ الْأَكْبَرُ ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ ، قَالُوا : أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ ؟ ، قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ ، قَالَ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ ، قَالَ سَهْلٌ : فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا ، فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا ، قَالَ : حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ،
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما دونوں خیبر کی طرف گئے اور کھجور کے درخت میں جدا ہو گئے۔ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مارے گئے۔ لوگوں نے یہود پر گمان کیا (یعنی یہودیوں نے مارا ہو گا) پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بھائی عبدالرحمٰن آیا۔ اور اس کے چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما سے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ عبدالرحمٰن اپنے بھائی کا حال بیان کرنے لگا اور وہ تینوں میں چھوٹا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑائی کر بڑے کی یا بڑے کو کہنا چاہیئے۔“ پھر حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما نے حال بیان کیا عبداللہ بن سہل کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پچاس آدمی یہود کے کسی آدمی پر قسم کھائیں کہ وہ قاتل ہے وہ اپنے گلے کی رسی دے دے گا (یعنی اپنے تئیں سپرد کر دے گا تمہارے قتل کے لیے) انہوں نے کہا: جب یہ واقعہ ہوا تو ہم نے نہیں دیکھا، ہم کیونکر قسم کھائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہود پچاس قسمیں کھا اپنے تئیں پاک کریں گے۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ تو کافر ہیں۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت دی عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی۔ سہل نے کہا: میں ان اونٹوں کے باندھنے کی جگہ گیا تو ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
صحیح مسلم : ۴۳۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۴۴
وحَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ " فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ " ،
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے دی اور اس میں یہ نہیں ہے کہ ایک اونٹنی نے مجھ کو لات ماری۔
