نکاح کے احکام و مسائل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۹۸

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى : أَخْبَرَنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى ، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ ، فقَالَ : لَهُ عُثْمَانُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ ، قَالَ : فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ ، فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " ،

‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں چلا جاتا تھا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں، سو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ملے اور ان سے کہا کہ اے ابوعبدالرحمٰن! ہم تمہارا نکاح ایسی جوان لڑکی سے نہ کر دیں کہ وہ تم کو تمہاری گزری ہوئی عمر میں سے کچھ یاد دلا دے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اگر تم یہ کہتے ہو تو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اے گروہ جوانوں کے! جو تم میں نکاح کے خرچ کی طاقت رکھتا ہو (یعنی نان و نفقہ دے سکتا ہو) تو چاہئیے کہ نکاح کرے، اس لیے کہ وہ آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور فرج کو زنا وغیرہ سے بچا دیتا ہے اور جو نہ طاقت رکھتا ہو (اس خرچ کی) تو روزے رکھے کہ یہ اس کے لیے گویا خصی کرنا ہے۔“

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۹۹

حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فقَالَ : هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَاسْتَخْلَاهُ ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ ، قَالَ : قَالَ لِي : تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِكْرًا لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ان کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمٰن! ادھر آؤ پھر ان کو خلوت میں لے گئے۔ جب عبداللہ نے دیکھا کہ عثمان کو کوئی کام نہیں تو انہوں نے مجھے بلا لیا کہ اے علقمہ! یہاں آ جاؤ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں چلا گیا تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اے ابوعبدالرحمان! کیا تمہارا نکاح ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں شاید کہ وہ تمہیں تمہارا جوانی کا وقت یاد دلا دے۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ کہتے ہیں۔ اگے وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۰۰

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ ، فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " ،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ”اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو خرچ کی طاقت رکھے وہ نکاح کر لے اس لیے کہ نکاح آنکھوں کو نیچا کر دیتا ہے اور فرج (شرمگاہ کو) زنا وغیرہ سے بچا دیتا ہے اور جو خرچ کی طاقت نہ رکھے وہ روزہ رکھے کہ گویا یہ اس کے لیے خصی کرنا ہے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں