سلامتی اور صحت کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۶

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کرے سوار پیدل پر اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے پر اور سلام کریں تھوڑے لوگ بہت لوگوں پر۔“

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم بیٹھے تھے مکان کے سامنے جو زمین ہوتی ہے اس میں باتیں کرتے ہوئے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو راہ میں بیٹھنے سے کیا مطلب۔“ ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم کسی برے کام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ ہم بیٹھے تھے چپ ادھر ادھر کے ذکر کرتے ہوئے اور باتیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر نہیں مانتے تو اس کا حق ادا کرو وہ کیا ہے؟ آنکھ نیچے رکھنا (اور اجنبی عورتوں کی طرف نظر بد نہ کرنا) اور سلام کا جواب دینا اور اچھی باتیں کرنا۔“ (جن سے لوگ خوش ہوں اور ان سے فائدہ پہنچے)۔

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۸

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بچو راہوں میں بیٹھنے سے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر باتیں کرنے کی مجبوری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نہیں مانتے تو راہ کا حق ادا کرو۔“ انہوں نے عرض کیا، راہ کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ نیچے رکھنا اور کسی کو ایذا نہ دینا اور سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کا حکم کرنا، بری بات سے منع کرنا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں