حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کرے سوار پیدل پر اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے پر اور سلام کریں تھوڑے لوگ بہت لوگوں پر۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ " .
ہم بیٹھے تھے مکان کے سامنے جو زمین ہوتی ہے اس میں باتیں کرتے ہوئے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو راہ میں بیٹھنے سے کیا مطلب۔“ ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم کسی برے کام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ ہم بیٹھے تھے چپ ادھر ادھر کے ذکر کرتے ہوئے اور باتیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر نہیں مانتے تو اس کا حق ادا کرو وہ کیا ہے؟ آنکھ نیچے رکھنا (اور اجنبی عورتوں کی طرف نظر بد نہ کرنا) اور سلام کا جواب دینا اور اچھی باتیں کرنا۔“ (جن سے لوگ خوش ہوں اور ان سے فائدہ پہنچے)۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بچو راہوں میں بیٹھنے سے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر باتیں کرنے کی مجبوری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نہیں مانتے تو راہ کا حق ادا کرو۔“ انہوں نے عرض کیا، راہ کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ نیچے رکھنا اور کسی کو ایذا نہ دینا اور سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کا حکم کرنا، بری بات سے منع کرنا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
زید بن اسلم سے اس سند کے ساتھ روایت ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ " . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حق ہیں مسلمان کے اس کے مسلمان بھائی پر۔ سلام کا جواب دینا اور چھینکنے والے کا جواب دینا اور دعوت قبول کرنا اور بیمار کی خبرگیری کرنا اور جنازے کے ساتھ جانا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے حق مسلمان پر چھ ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا، کیا: یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مسلمان کو ملے تو اس کو سلام کر اور جب وہ تیری دعوت کرے تو قبول کر اور جب تجھ سے مشورہ چاہے تو اچھی صلاح دے جب چھینکے اور «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہے تو تو بھی جواب دے (یعنی «یَرْحَمْک۔ اللہُ» کہہ) اور جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کو جا اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ رہ۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم اس کے جواب میں «وَعَلَیٌکُمْ» کہو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ ، قَالَ : قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ! اہل کتاب ہم کو سلام کرتے ہیں ہم کیونکر جواب دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَیٌکُمْ» کہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے: «السَّامُ عَلَيْكُمْ» یعنی تم مرو «سام» کے معنی موت ہے تو تم کہو: «عَلَيْكَ» یعنی تم مرو۔
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقُولُوا وَعَلَيْكَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔