طہارت کے احکام و مسائل
صحیح مسلم : ۵۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا " .
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے (جن کا نام حارث یا عبید یا کعب بن عاصم یا عمرو ہے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے۔ اور «الحمد لله» بھر دے گا ترازو کو (یعنی اس قدر اس کا ثواب عظیم ہے کہ اعمال تولنے کا ترازو اس کے اجر سے بھر جائے گا) اور «سبحان الله» اور «الحمدلله» دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے بیچ کی جگہ کو (اگر ان کا ثواب ایک جسم کی شکل میں فرض کیا جائے) اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیری دلیل ہے۔ دوسرے پر یا دوسرے کی دلیل ہے تجھ پر (یعنی اگر سمجھ کر پڑھے اور فائدہ اٹھائے تو تیری دلیل ہے نہیں تو دوسرے کو فائدہ ہو گا اور تو محرم رہے گا)، ہر ایک آدمی (بھلا ہو یا برا) صبح کو اٹھتا ہے یا پھر اپنے تئیں آزاد کرتا ہے (نیک کام کر کے اللہ کے عذاب سے) یا (برے کام کر کے) اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے۔“
صحیح مسلم : ۵۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۵
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَلَى ابْنِ عَامِرٍ ، يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَقَالَ : أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ ، وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ " .
سیدنا مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابن عامر کے پاس آئے وہ بیمار تھے ان کے پوچھنے کو۔ ابن عامر نے کہا: اے ابن عمر! تم میرے لئے دعا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ نہیں قبول کرتا نماز کو بغیر طہارت کے اور نہیں قبول کرتا صدقہ اس مال غنیمت میں سے جو تقسیم سے پہلے اڑا لیا جائے۔“ اور تم تو بصرے کے حاکم ہو چکے ہو۔
صحیح مسلم : ۵۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ . ح قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔
