صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱۶۹

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رُءُوسِنَا وَنَحْنُ فِي الْغَارِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ أَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ ، فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ : مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے مشرکوں کے پاؤں دیکھے اپنے سروں پر اور ہم غار میں تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہم کو دیکھ لےگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تو کیا سمجھتا ہے ان دونوں کے بارے میں جن کے میں ساتھ تیسرا اللہ بھی ہے۔“

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱۷۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَي بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : عَبْدٌ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ زَهْرَةَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَبَكَى ، فَقَالَ : فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ، قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي مَالِهِ وَصُحْبَتِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”اللہ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے، چاہے دنیا کی دولت لے، چاہے اللہ تعالیٰ کے پاس رہنا اختیار کرے۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کے پاس رہنا اختیار کیا۔“ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روئے (سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات قریب ہے) اور بہت روئے، پھر کہا: ہمارے باپ، دادا ہماری مائیں آپ پر قربان ہوں۔ پھر معلوم ہوا کہ اس بندے سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتےتھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر ابوبکر کا احسان ہے مال کا بھی اور صحبت کا اور جو میں کسی کو خلیل بناتا (سوائے اللہ کے) تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ اب خلت تو نہیں ہے لیکن اسلام کی اخوت (برادری) ہے، مسجد میں کسی کی کھڑکی نہ رہے (سب بند کر دی جائیں) پر ابوبکر کے گھر کی کھڑکی قائم رکھو۔“

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱۷۱

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمًا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا۔ جیسا کہ حدیث مالک میں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں