قران مجيد كي تفسير كا بيان
صحیح مسلم : ۷۵۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۵۲۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا ، وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ، فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ ، وَقَالُوا : حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل سے کہا: گیا تھا تم بیت المقدس کے دروازہ میں رکوع کرتے ہوئے جاؤ اور کہو «حِطَّةٌ» یعنی بخشش گناہوں کی، ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے۔ لیکن بنی اسرائیل نے حکم کے خلاف کیا دروازہ میں گھسے سرین کے بل گھسٹتے ہوۓ اور «ِحِطَّةٌ» کے بدلے کہنے لگے «حَبَّةٌ فِى شَعَرَةٍ» یعنی دانہ بالی میں۔“ (ایک روایت میں ہے «حِطَّةٌ فِى شَعَرَةٍ» کہنے لگے)۔
صحیح مسلم : ۷۵۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۵۲۴
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ جل جلالہ نے پے در پے وحی بھیجی اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وفات سے پہلے یہاں تک کہ وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن بہت وحی آئی۔
صحیح مسلم : ۷۵۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۵۲۵
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ ، قَالُوا لِعُمَرَ " إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ ، أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ، قَالَ سُفْيَانُ : أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي سورة المائدة آية 3 " .
طارق بن شہاب سے روایت ہے، یہود نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ایک آیت پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم لوگوں میں اترتی تو ہم اس دن کو عید کر لیتے (خوشی سے) وہ آیت یہ ہے «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى» سورۂ مائدہ میں یعنی ”آج میں نے تمہارا دین پورا کیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کی اور اسلام کا دین تمہارے لیے پسند کیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں یہ آیت جہاں اتری اور کس دن اتری اور جس وقت اتری اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے۔ یہ آیت عرفات میں اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے ہوئے تھے عرفات میں (تو عرفہ کا روز عید ہے مسلمانوں کی، دوسری روایت میں ہے کہ اس دن جمعہ تھا، جمعہ بھی عید ہے)۔
