عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان
صحیح مسلم : ۴۱۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : " حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " ،
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے ایک عمدہ گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا۔ پھر جس کو دیا تھا اس نے اس کو تباہ کر دیا میں سمجھا کہ یہ اس کو اب سستے دام میں بیچ ڈالے گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت خرید کر اس کو اور مت پھیر اپنے صدقے کو اس لیے کہ صدقہ لوٹانے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر اس کو کھانے جاتا ہے۔“
صحیح مسلم : ۴۱۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۴
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ لَا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”تو اس کو نہ خرید اگرچہ وہ تجھے ایک درہم کے بدلے میں دے۔“
صحیح مسلم : ۴۱۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۵
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ " أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ وَكَانَ قَلِيلَ الْمَالِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ ، فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " ،
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک گھوڑا دیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں، پھر دیکھا تو وہ جس کے پاس تھا اس نے تباہ کر دیا، اس کو (گھاس اور دانے کی بے خبری سے) اور وہ نادار تھا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چاہا پھر خریدنا اس کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت خرید اس کو اگرچہ ایک درہم کو ملے کیونکہ مثال اس کی جو لوٹائے اپنے صدقے میں مثال کتے کی ہے لوٹتا ہے قے کر کے پھر کھانے کو۔“
