حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ جَمِيعًا ، عَنْ الْوَلِيدِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ " .
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ فرماتے تھے: ”اللہ جل جلالہ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور قریش کو کنانہ میں سے اور بنی ہاشم کو قریش میں سے اور مجھ کو بنی ہاشم میں سے چنا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہچانتا ہوں اس پتھر کو جو مکہ میں ہے وہ مجھے سلام کیا کرتا تھا نبوت سے پہلے۔ میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا قیامت کے دن، اور سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی۔“
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا تو ایک ٹب لایا گیا پھیلا ہوا، لوگ اس میں سے وضو کرنے لگے۔ میں نے اندازہ کیا تو ساٹھ سے اسی آدمی تک نے وضو کیا ہو گا، میں پانی کو دیکھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں سے پھوٹ رہا تھا۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ ، فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ " .
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت آ گیا تھا اور لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈا، پانی نہ ملا، پھر تھوڑا سا وضو کا پانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھ دیا، اور لوگوں کو حکم دیا اس میں سے وضو کرنے کا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے دیکھا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں سے پھوٹ رہا تھا، پھر سب لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ اخیر والے نے بھی۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ ، قَالَ : وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ ، وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ ، فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ ؟ قَالَ : كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِ مِائَةِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب زوراء میں تھے، اور زوراء ایک مقام ہے مدینہ میں بازار اور مسجد کے قریب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ پانی کا منگوایا اور اپنی ہتھیلی اس میں رکھ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں سے پانی پھوٹنے لگا، اور تمام اصحاب نے وضو کر لیا۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوحمزہ! کتنے آدمی اس وقت ہوں گے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب تین سو آدمیوں کے تھے، (شاید یہ دوسرے وقت کا ذکر ہے)۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ بِالزَّوْرَاءِ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ ، أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوراء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں اتنا پانی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں نہیں ڈوبتی تھیں یا انگلیاں نہیں چھپتی تھیں، پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا ، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ ، فَأَتَتْا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَصَرْتِيهَا ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا " .
سیدہ ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں گھی بھیجا کرتی تھی تحفہ کے طور پر، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی اس میں گھی ہوتا۔ اسی طرح ہمیشہ اس کے گھر کا سالن قائم رہتا۔ ایک بار ام مالک رضی اللہ عنہا نے (حرص کر کے) اس کپی کو نچوڑ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی (اور ضرورت کے وقت لیتی جاتی) تو وہ ہمیشہ قائم رہتا۔“
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ، وَلَقَامَ لَكُمْ " .
ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا مانگتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آدھا وسق جو دیئے، (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) پھر وہ شخص اور اس کی بی بی اور مہمان ہمیشہ اس میں سے کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ اس شخص نے ماپا اس کو، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کو نہ ماپتے تو ہمیشہ اس میں سے کھاتے، اور وہ ایسا ہی رہتا۔“ (کیوں کہ ماپنے سے اللہ کا بھروسہ جاتا رہا اور بےصبری نمود ہوئی پھر برکت کہاں رہے گی)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ دَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ، حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاء ، قَالَ : فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ ، قَالَا : نَعَمْ ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لَهُمَا : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، قَالَ : ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ، قَالَ : وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا ، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ ، أَوَ قَالَ غَزِيرٍ شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا ، قَالَ : حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ : يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا " .
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جس سال تبوک کی لڑائی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں جمع کرتے دو نمازوں کو تو ظہر اور عصر ملا کر پڑھی، اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھی، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی، پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھی پھر اندر چلے گئے۔ پھر نکلے اس کے بعد تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھی، بعد اس کے فرمایا: ”تم کل، اللہ چاہے تبوک کے چشمے پر پہنچو گے، اور نہیں پہنچو گے جب تک دن نہ نکلے اور جو کوئی جائے تم میں سے اس چشمہ کے پاس تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں۔“سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم اس چشمے پر پہنچے، ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے، اور چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتے کے تسمہ کے برابر پانی ہو گا۔ وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا: ”تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا (اس لیے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا) اور جو اللہ کو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا، پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھوئے، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا، وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا، پھر لوگوں نے پانی پلانا شروع کیا (آدمیوں اور جانوروں کو) بعد میں اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا اس کا پانی باغوں کو بھر دے گا۔“ (یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا معجزہ تھا، اس لشکر میں تیس ہزار آدمی تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ ستر ہزار آدمی تھے)۔