صحیح مسلم حدیث ۵۹۴۶ - انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
صحیح مسلم : ۵۹۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۴۶
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ، وَلَقَامَ لَكُمْ " .
جابر روایت:
ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا مانگتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آدھا وسق جو دیئے، (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) پھر وہ شخص اور اس کی بی بی اور مہمان ہمیشہ اس میں سے کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ اس شخص نے ماپا اس کو، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کو نہ ماپتے تو ہمیشہ اس میں سے کھاتے، اور وہ ایسا ہی رہتا۔“ (کیوں کہ ماپنے سے اللہ کا بھروسہ جاتا رہا اور بےصبری نمود ہوئی پھر برکت کہاں رہے گی)۔
