حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي ، وَاللَّهِ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں (علم سے) جہاں وہ میری یاد کرے اور البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے تم میں سے کوئی خالی زمین میں اپنا گمشدہ جانور پائے اور جو شخص میری طرف ایک بالشت نزدیک ہو میں اس کی طرف ایک ہاتھ نزدیک ہوتا ہوں اور جو ایک ہاتھ نزدیک ہو تو میں ایک «باع» (دونوں ہاتھوں کا پھیلاؤ) نزدیک ہوتا ہوں اور جب وہ میری طرف چلتا ہوا آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کی طرف آتا ہوں (اس حدیث کی شرح اوپر گزر چکی)۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا " ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ تعالیٰ تم میں سے جب کوئی توبہ کرے تو اس سے زیادہ خوش ہے جتنا کوئی تم میں سے اپنا گمشدہ جانور پانے سے خوش ہوتا ہے۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ ، وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ ، فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ، ثُمَّ قَالَ : أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ ، فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ ، فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ " وَزَادِهِ ،
میں عبداللہ کے پاس گیا ان کی تیمارداری کو وہ بیمار تھے، انہوں نے مجھ سے دو حدیثیں بیان کیں، ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ انہوں نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے کوئی شخص ایک پٹ پر میدان میں (جہاں نہ سایہ ہو نہ پانی) جو ہلاک کرنے والا ہو سو جائے اور اس کے ساتھ اس کا اونٹ ہو جس پر اس کا کھانا اور پانی ہو جب وہ جاگے تو اپنا اونٹ نہ پائے، پھر اس کو ڈھونڈے یہاں تک کہ پیاسا ہو جائے، پھر کہے میں لوٹ جاؤں جہاں تھا اور سوتے سوتے مر جاؤں، پھر اپنا سر اپنے بازو پر رکھے مرنے کے لیے پھر جو جاگے تو اپنا اونٹ اپنے پاس پائے اس پر اس کا توشہ ہو کھانا بھی اور پانی بھی، تو اللہ تعالیٰ کو مومن بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس شخص کو اپنے اونٹ اور توشہ ملنے سے ہوتی ہے۔“
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنَ الْأَرْضِ ،
اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ آدمی جنگل کی زمین میں ہو۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : خَطَبَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، فَقَالَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ حَمَلَ زَادَهُ وَمَزَادَهُ عَلَى بَعِيرٍ ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى كَانَ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَأَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ فَنَزَلَ ، فَقَالَ : تَحْتَ شَجَرَةٍ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَانْسَلَّ بَعِيرُهُ ، فَاسْتَيْقَظَ فَسَعَى شَرَفًا ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَانِيًا ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَالِثًا ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَأَقْبَلَ حَتَّى أَتَى مَكَانَهُ الَّذِي قَالَ فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ قَاعِدٌ إِذْ جَاءَهُ بَعِيرُهُ يَمْشِي حَتَّى وَضَعَ خِطَامَهُ فِي يَدِهِ ، فَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ مِنْ هَذَا حِينَ وَجَدَ بَعِيرَهُ عَلَى حَالِهِ " ، قَالَ سِمَاكٌ : فَزَعَمَ الشَّعْبِيُّ أَنَّ النُّعْمَانَ رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا تو کہا: البتہ اللہ کو اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا توشہ اور توشہ دان ایک اونٹ پر ہو، پھر وہ چلے اور ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں کھانا اور پانی نہ ہو اور دوپہر کا وقت ہو جائے وہ اترے اور ایک درخت کے تلے سو جائے، اس کی آنکھ لگ جائے اور اونٹ چل دے جب جاگے اور ایک اونچائی پر چڑھے تو اونٹ نہ پائے، پھر دوسری اونچائی پر چڑھے کچھ نہ دیکھے، پھر تیسری اونچائی پر چڑھے کچھ نہ دیکھے، پھر لوٹ کر اپنی اسی جگہ میں آئے جہاں سویا تھا اور وہ بیٹھا ہوا اتنے میں اس کا اونٹ چلتا ہوا آئے یہاں تک کہ اپنی نکیل اس کے ہاتھ میں دے دے، البتہ اللہ تعالیٰ کو بندہ کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جب وہ اپنا اونٹ اسی طرح پاتا ہے۔ سماک نے کہا: شعبی نے کہا: نعمان نے یہ حدیث مرفوع کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لیکن میں نے تو نعمان سے مرفوع کرتے نہیں سنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَجَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ جَعْفَرٌ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ إِيَادٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ ، ؟ وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ ، فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ ، فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُتَعَلِّقَةً بِهِ ؟ " ، قُلْنَا : شَدِيدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ " ، قَالَ جَعْفَرٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، عَنْ أَبِيهِ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو اس شخص کو کتنی خوشی ہو گی جس کا اونٹ بھاگ جائے اپنی نکیل کھینچتا ہوا ایسے پٹ پر میدان میں جہاں نہ کھانا ہو، نہ پانی اور اس کا کھانا اور پانی سب اسی اونٹ پر ہو، پھر وہ اس کو ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے تھک جائے۔ آخر وہ اونٹ ایک درخت کی جڑ پر گزرے اور اس کی نکیل اس جڑ سے اٹک جائے، پھر وہ شخص اس اونٹ کو اس درخت سے اٹکا ہوا پائے۔“ ہم لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کو بہت خوشی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار ہو جاؤ البتہ اللہ کی قسم! اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ ، فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَأَيِسَ مِنْهَا ، فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ ، إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ خوشی ہوتی ہے اپنے بندہ کی توبہ سے جب وہ توبہ کرتا ہے تم میں سے اس شخص سے جو اپنے اونٹ پر سوار ہو ایک صاف بےآب و دانہ جنگل میں، پھر وہ اونٹ نکل بھاگے اسی پر اس کا کھانا اور پانی ہو۔ آخر وہ اس سے ناامید ہو کر ایک درخت تلے آ کر لیٹ رہے اس کے سایہ میں اور اونٹ سے بالکل ناامید ہو گیا ہو، وہ اسی حال میں ہو کہ یکایک اونٹ اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے اور وہ اس کی نکیل تھام لے، پھر خوشی کے مارے بھول کر غلطی سے کہنے لگے: یااللہ! تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب ہوں خوشی کے سبب سے ایسی غلطی کرے۔“ (یعنی یوں کہنا تھا یااللہ! تو میرا رب ہے میں تیرا بندا ہوں پر خوشی سے زبان میں الٹا نکل جائے)۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا اسْتَيْقَظَ عَلَى بَعِيرِهِ قَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ " ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے اپنے بندہ کی توبہ سے بہ نسبت اس شخص کے تم میں سے جو جاگتے ہی اپنا اونٹ دیکھے جو گم ہو گیا ہو ایک خشک جنگل میں۔“