صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۱ - توبہ پر اللہ کی خوشی
توبہ کی حدیث: اللہ بندے کی واپسی پر خوش ہوتا ہے
صحیح مسلم : ۶۹۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۶۱
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا اسْتَيْقَظَ عَلَى بَعِيرِهِ قَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ " ،
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے اپنے بندہ کی توبہ سے بہ نسبت اس شخص کے تم میں سے جو جاگتے ہی اپنا اونٹ دیکھے جو گم ہو گیا ہو ایک خشک جنگل میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث توبہ کی حدیث کے طور پر بہت دل کو چھونے والا پیغام دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ مثال ایسی دی گئی کہ ایک شخص خشک جنگل میں اپنا اونٹ گم کر بیٹھے، پھر جاگتے ہی اسے اپنا اونٹ مل جائے۔ اس وقت اس کی خوشی بہت بڑی ہوتی ہے، مگر اللہ کی خوشی بندے کی توبہ پر اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اس حدیث میں بندے کو مایوسی نہیں، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کی دعوت ہے۔ جب انسان گناہ کے بعد پلٹتا ہے، توبہ کرتا ہے اور اللہ سے معافی چاہتا ہے تو یہ عمل اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گناہ کے بعد اللہ کی طرف پلٹنا بندے کے لیے امید کا راستہ ہے۔
- سچی توبہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔
- اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
- حدیث میں توبہ کی خوشی کو آسان مثال سے سمجھایا گیا ہے۔
