صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۸ - گناہ کا احساس اور توبہ
توبہ کی حدیث: مومن گناہ کو معمولی نہیں سمجھتا
صحیح بخاری : ۶۳۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ " ، فَقَال : بِهِ هَكَذَا ، قَالَ أَبُو شِهَابٍ : بِيَدِهِ فَوْقَ أَنْفِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ نَزَلَ مَنْزِلًا وَبِهِ مَهْلَكَةٌ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ نَوْمَةً ، فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ حَتَّى إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْحَرُّ وَالْعَطَشُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي فَرَجَعَ فَنَامَ نَوْمَةً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَهُ " ، تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ ، وَجَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، سَمِعْتُ الْحَارِثَ ، وَقَالَ شُعْبَةُ : وَأَبُو مُسْلِمٍ اسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ كُوفِيٌّ قَائِدُ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب نے، ان سے اعمش نے، ان سے عمارہ بن عمیر نے، ان سے حارث بن سوید اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دو احادیث (بیان کیں)` ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری خود اپنی طرف سے کہا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس کے اوپر نہ گر جائے اور بدکار اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے کہ وہ اس کے ناک کے پاس سے گزری اور اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اس طرف اشارہ کیا۔ابوشہاب نے ناک پر اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اس کی کیفیت بتائی پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے کسی پرخطر جگہ پڑاؤ کیا ہو اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو اور اس پر کھانے پینے کی چیزیں موجود ہوں۔ وہ سر رکھ کر سو گیا ہو اور جب بیدار ہوا ہو تو اس کی سواری غائب رہی ہو۔ آخر بھوک و پیاس یا جو کچھ اللہ نے چاہا اسے سخت لگ جائے وہ اپنے دل میں سوچے کہ مجھے اب گھر واپس چلا جانا چاہئے اور جب وہ واپس ہوا اور پھر سو گیا لیکن اس نیند سے جو سر اٹھایا تو اس کی سواری وہاں کھانا پینا لیے ہوئے سامنے کھڑی ہے تو خیال کرو اس کو کس قدر خوشی ہو گی۔ابوشہاب کے ساتھ اس حدیث کو ابوعوانہ اور جریر نے بھی اعمش سے روایت کیا، اور شعبہ اور ابومسلم (عبیداللہ بن سعید) نے اس کو اعمش سے روایت کیا، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے اور ابومعاویہ نے یوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے عمارہ سے انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ اور ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں صاف بیان ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مومن اپنے گناہوں کو ہلکا نہیں لیتا، بلکہ اسے ایسا ڈر محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پہاڑ اس پر گرنے والا ہو۔ دوسری طرف بدکار شخص گناہ کو مکھی کی طرح معمولی سمجھتا ہے۔ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی خوشی کی مثال دی کہ جیسے خطرناک جگہ میں گم ہوئی سواری کھانے پینے سمیت واپس مل جائے تو آدمی بہت خوش ہوتا ہے، اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔ اس لیے گناہ کا احساس مایوسی نہیں، بلکہ توبہ کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن گناہ کو معمولی بات نہیں سمجھتا۔
- گناہ کا احساس بندے کو توبہ کی طرف لے جاتا ہے۔
- اللہ بندے کی سچی توبہ کو پسند فرماتا ہے۔
- اپنی غلطی پر بے فکر ہو جانا خطرناک رویہ ہے۔
