صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۷ - کثرت سے استغفار کرنا

استغفار کی کثرت: دن بھر اللہ کی طرف رجوع

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۷

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً " .

ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام کثرت سے استغفار اور توبہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ آپ دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتے اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں۔ یہاں عام مسلمان کے لیے بڑی سیدھی بات ہے کہ استغفار صرف گناہ کے بعد ہی نہیں، بلکہ بندگی کا مستقل حصہ ہے۔ انسان دن بھر بولتا، سوچتا اور کام کرتا ہے، اس لیے اللہ سے رجوع کرنا دل کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے۔ اس حدیث سے استغفار کی عادت، توبہ کی اہمیت، اور روزانہ اللہ سے معافی مانگنے کا صاف سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • استغفار کو روزانہ کا معمول بنانا چاہیے۔
  • اللہ سے توبہ کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
  • بندہ اپنے رب سے بار بار رجوع کرے۔
  • نیک آدمی بھی اللہ سے مغفرت مانگنے کا محتاج ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں