صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۶ - سید الاستغفار کی دعا

سید الاستغفار: سب سے عمدہ استغفار کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۶

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُولَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، قَالَ : وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوقِنٌ بِهَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .

شداد بن اوس روایت:

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ان سے بشیر بن کعب عدوی نے کہا کہ مجھ سے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدالاستغفار (مغفرت مانگنے کے سب کلمات کا سردار) یہ ہے یوں کہے «اللهم أنت ربي، لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك على وأبوء بذنبي، اغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت‏"‏‏.‏» ‏”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا۔“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن اس کا انتقال ہو گیا شام ہونے سے پہلے، تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث سید الاستغفار کے بارے میں ہے، یعنی مغفرت مانگنے کے بہترین کلمات۔ اس دعا میں بندہ پہلے اللہ کو اپنا رب مانتا ہے، پھر توحید کا اقرار کرتا ہے، پھر اپنی بندگی، اپنی کمزوری اور اللہ کے عہد پر قائم رہنے کی کوشش بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے کیے ہوئے برے کاموں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے، اللہ کی نعمتوں کا اقرار کرتا ہے اور اپنے گناہ کو بھی مانتا ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ استغفار صرف زبان کے الفاظ نہیں، دل کے یقین کے ساتھ ہونا چاہیے۔ حدیث میں صبح و شام اس دعا کو یقین کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • استغفار میں اللہ کی ربوبیت اور اپنی بندگی کا اقرار شامل ہونا چاہیے۔
  • بندہ اپنی غلطی کو چھپانے کے بجائے اللہ کے سامنے مانے۔
  • دعا دل کے یقین کے ساتھ پڑھی جائے تو اس کی خاص فضیلت ہے۔
  • صبح و شام مغفرت مانگنا ایمان والے معمولات میں سے ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں