صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۵ - قیامت کے دن امت کی شفاعت
قیامت کے دن امت کی شفاعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۳۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۵
وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، قَالَ مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ نَبِيٍّ سَأَلَ سُؤْلًا ، أَوْ قَالَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا ، فَاسْتُجِيبَ فَجَعَلْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی نے کچھ چیزیں مانگیں یا فرمایا کہ ہر نبی کو ایک دعا دی گئی جس چیز کی اس نے دعا مانگی پھر اسے قبول کیا گیا لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۵ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی نے کچھ مانگا، یا ہر نبی کو ایک دعا دی گئی جس کے ساتھ اس نے دعا کی، پھر وہ قبول کی گئی۔ لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے خاص فکر سامنے آتی ہے۔ آپ نے اپنی خاص دعا دنیا میں استعمال کرنے کے بجائے آخرت کے دن کے لیے باقی رکھی۔ یہاں اصل الفاظ دعا، قبولیت، قیامت اور شفاعت سے متعلق ہیں۔ اس سے آگے شفاعت کی تفصیلی کیفیت بیان کرنا اس روایت کے متن سے باہر ہو گا، اس لیے مرکزی پیغام یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یاد رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی کی دعا قبول ہونے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا قیامت کے دن کے لیے محفوظ رکھی۔
- حدیث میں امت کے لیے شفاعت کا واضح بیان ہے۔
- آخرت کی فکر اس روایت کا نمایاں پہلو ہے۔
