صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۴ - امت کے لیے محفوظ دعا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے شفاعت والی دعا
صحیح بخاری : ۶۳۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۴
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا ، وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے (جو قبول کی جاتی ہے) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۴ کا خلاصہ
یہ حدیث دعا اور شفاعت کے موضوع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت سے محبت کو بیان کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایک ایسی دعا حاصل ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔ اس حدیث میں دو بنیادی باتیں ہیں: انبیاء کو قبول ہونے والی خاص دعا دی گئی، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا فوری دنیاوی مقصد کے بجائے آخرت میں امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی۔ اس سے امت کے لیے آپ کی خیر خواہی ظاہر ہوتی ہے۔ حدیث میں شفاعت کا ذکر ہے، مگر اس کی تفصیل یہاں بیان نہیں ہوئی، اس لیے بات اسی حد تک رکھنی چاہیے جو متن میں موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی کے لیے ایک قبول ہونے والی دعا کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی۔
- اس حدیث میں آخرت کی فکر کا پہلو واضح ہے۔
- امت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی ظاہر ہوتی ہے۔
