صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۴ - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفوظ دعا
شفاعت کی حدیث: امت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۷۴۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِيَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے تو میں چاہتا ہوں اگر اللہ نے چاہا کہ اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے اپنی امت کے لیے بڑی شفقت کا اظہار فرمایا کہ میں چاہتا ہوں، اگر اللہ نے چاہا، اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔ اس حدیث میں شفاعت کا ذکر ہے، مگر ساتھ ہی ان شاء اللہ بھی ہے، یعنی سب کچھ اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاص دعا کو دنیا کے کسی فوری معاملے میں استعمال کرنے کے بجائے امت کے آخرت کے معاملے کے لیے محفوظ رکھنا پسند فرمایا۔ یہ امت پر آپ کی رحمت اور فکر کو ظاہر کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی کو ایک خاص قبول دعا عطا کی گئی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی۔
- شفاعت بھی اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔
- امت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اس حدیث سے ظاہر ہوتی ہے۔
