صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۳ - مدینہ کی حفاظت اور دجال
مدینہ کی فضیلت: دجال اور طاعون سے حفاظت کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِيسَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ ، وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال مدینہ تک آئے گا لیکن دیکھے گا کہ فرشتہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں پس نہ تو دجال اس سے قریب ہو سکے گا اور نہ طاعون، اگر اللہ نے چاہا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی خاص حفاظت کا ذکر فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ دجال مدینہ تک آئے گا، مگر وہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا۔ اس وجہ سے دجال مدینہ کے قریب نہیں آ سکے گا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ طاعون بھی مدینہ کے قریب نہیں آئے گا، ان شاء اللہ۔ اس حدیث کا اصل موضوع مدینہ کی فضیلت اور اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہے۔ یہاں دجال کا ذکر ایک بڑے فتنے کے طور پر ہے، مگر حدیث کا پیغام خوف پھیلانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ مدینہ کو اللہ کے حکم سے فرشتوں کی حفاظت حاصل ہو گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ کو اللہ کے حکم سے خاص حفاظت حاصل ہے۔
- دجال جیسے بڑے فتنے کے سامنے بھی اللہ کی حفاظت غالب ہے۔
- فرشتوں کا مدینہ کی حفاظت کرنا اس شہر کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
- ان شاء اللہ کہنا اللہ کی مشیت کو یاد رکھنے کا طریقہ ہے۔
