معاشرتی آداب کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۶

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لَهُ ، قالا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : نَادَى رَجُلٌ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے دوسرے شخص کو پکارا بقیع میں، اے ابوالقاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر دیکھا وہ شخص بولا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو نہیں پکارا تھا بلکہ فلاں شخص کو پکارا تھا (اس کی کنیت بھی ابوالقاسم ہو گی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نام رکھو میرے نام سے اور مت کنیت رکھو میری کنیت سے۔“

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۷

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ الْمُلَقَّبُ بسبلان ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَهُ مِنْهُمَا سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ يُحَدِّثَانِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر نام تمہارے لیے اللہ کے نزدیک یہ ہیں عبداللہ اور عبدالرحمٰن۔“

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۸

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لِي قَوْمِي : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ اس کی قوم نے کہا اس سے: ہم تجھے یہ نام نہیں رکھنے دیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھتا ہے پھر وہ شخص اپنے بچے کو اپنی پیٹھ پر لاد کر لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا لڑکا پیدا ہوا میں نے اس کا نام محمد رکھا میری قوم کے لوگ کہتے ہیں ہم تجھے نہیں چھوڑنے کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام رکھو لیکن میری کنیت (یعنی ابوالقاسم) نہ رکھو کیونکہ قاسم میں ہوں تقسیم کرتا ہوں تم میں جو کچھ ملتا ہے۔“ (غنیمت کا مال یا زکوٰۃ اس لیے اور کسی شخص کو ابوالقاسم نام رکھنا زیبا نہیں)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں