مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
صحیح مسلم : ۱۱۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۶۱
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ ؟ قَالَ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ، قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ سَنَةً ، وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّ ، فَهُوَ مَسْجِدٌ " ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ : ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّهْ ، فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد الحرام: (یعنی خانہ کعبہ) میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسجد اقصیٰ ”(بیت المقدس) میں نے پوچھا: ان دونوں مسجدوں کے بننے میں کتنا زمانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس برس کا اور تجھ کو تو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں پڑھ لے وہ مسجد ہے۔“ ابی کامل کی حدیث میں ہے ”پھر تجھ کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں پڑھ لے وہ مسجد ہے۔“
صحیح مسلم : ۱۱۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۶۲
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ ، فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ ، سَجَدَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَتِ ، أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ ؟ قَالَ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ، قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ عَامًا ، ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّ " .
ابراہیم بن یزید تیمی سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کو قرآن سنایا کرتا «سده» میں ( «سده» وہ مقام جو مسجد سے خارج ہو دروازہ کے باہر جہاں لوگ بیٹھ کر خرید و فروخت اور باتیں کرتے ہیں اور نسائی کی روایت میں «سكه» ہے یعنی گلی میں) جب میں سجدہ کی آیت پڑھتا تو وہ سجدہ کرتے میں نے ان سے کہا: بابا! آپ راستہ میں سجدہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد حرام“ میں نے پوچھا: پھر کون سی مسجد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ میں نے پوچھا ان دونوں میں کتنے برس کا فرق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس برس کا، پھر ساری زمین تیرے لئے مسجد ہے جہاں نماز کا وقت آ جائے وہاں نماز پڑھ لے۔“
صحیح مسلم : ۱۱۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۶۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي ، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ ، يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ ، صَلَّى حَيْثُ كَانَ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَيْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ کو پانچ چیزیں ملی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں ملیں۔ ایک تو یہ کہ ہر پیغمبر خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور میں سرخ اور سیاہ ہر شخص کی طرف بھیجا گیا (سرد ملکوں کے لوگ سرخ ہیں اور گرم ملکوں کے لوگ سیاہ تو مطلب یہ ہے کہ میری نبوت عام ہے، کسی ملک سے خاص نہیں) اور مجھے غنیمت (جہاد کی لوٹ کا مال) حلال ہوا۔ مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں ہوا اور میرے لئے ساری زمین پاک اور پاک کرنے والی کی گئی۔ پھر جس شخص کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور مجھے مدد دی گئی رعب سے جو ایک مہینہ کے فاصلہ سے پڑتا ہے (یعنی میری دھاک ایک مہینے کی راہ سے پڑ جاتی ہے) اور مجھے شفاعت عطا ہوئی ہے۔“
