تقدیر کا بیان
صحیح مسلم : ۶۷۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۲۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لَهُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ بِكَتْبِ رِزْقِهِ ، وَأَجَلِهِ ، وَعَمَلِهِ ، وَشَقِيٌّ ، أَوْ سَعِيدٌ ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حدیث بیان کی ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، سچےکئے ہو ئے، ”بے شک تم میں سے ہر ایک آدمی کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے، پھر چالیس دن میں لہو کی پھٹکی ہو جاتا ہے، پھر چالیس دن میں گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتے کو بھیجتا ہے وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار باتوں کا اس کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی روزی لکھتا ہے (یعنی محتاج ہوگا یا مالدار) اور اس کی عمر لکھتا ہے (کہ کتنا جئے گا) اور اس کے عمل لکھتا ہے (کہ کیا کیا کرے گا) اور یہ لکھتا ہے کہ نیک بخت (بہشتی) ہو گا یا بدبخت (دو زخی) ہو گا۔ سو میں قسم کھاتا ہوں اس کی کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ بےشک تم لوگوں میں سے کو ئی بہشتیوں کے کام کیا کرتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور بہشت میں ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے (یعنی بہت قریب ہو جاتا ہے)، پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب ہو جاتا ہے سو وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگتا ہے، پھر دوزخ میں جاتا ہے اور مقرر کوئی آدمی عمر بھر دوزخیوں کے کام کیا کرتا ہے یہاں تک کہ دوزخ میں اور اس میں سوائے ایک ہاتھ بھر کے کچھ فرق نہیں رہتا ہے، پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب ہوتا ہے سو بہشتیوں کے کام کرنے لگتا ہے، پھر بہشت میں جاتا ہے۔“
صحیح مسلم : ۶۷۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۲۴
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وقَالَ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ ، عَنْ شُعْبَةَ : أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَعِيسَى : أَرْبَعِينَ يَوْمًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم : ۶۷۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۲۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ ، أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَيَقُولُ يَا رَبِّ : أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَيُكْتَبَانِ ، فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ : أَذَكَرٌ ، أَوْ أُنْثَى ؟ فَيُكْتَبَانِ ، وَيُكْتَبُ عَمَلُهُ ، وَأَثَرُهُ ، وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ، ثُمَّ تُطْوَى الصُّحُفُ ، فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ " .
حذیفہ بن اسید سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتہ نطفے کے پاس جاتا ہے، جب وہ بچہ دانی میں جم جاتا ہے چالیس یا پینتالیس دن کے بعد اور کہتا ہے: اے رب! اس کو بدبخت لکھوں یا نیک بخت، پھر جو پروردگار کہتا ہے ویسا ہی لکھتا ہے، پھر کہتا ہے: مرد لکھوں یا عورت، پھر جو پروردگار فرماتا ہے ویسا ہی لکھتا ہے اور اس کا عمل اور عمر اور روزی لکھتا ہے، پھر کتاب لپیٹ دی جاتی ہے نہ اس سے کو ئی چیز بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے۔“
