حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے؛ ”جب ارادہ کرے کوئی تم میں سے کہ جمعہ کی نماز کو آئے تو غسل کر لے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَر : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ جو تم میں جمعہ کی نماز کو آئے تو نہا لے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وعَبْدِ اللَّهِ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
سالم نے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ دونوں صاحبزادے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اس روایت کے۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ .
سیدنا سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ سنا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اس کے جو اوپر مذکور ہوا۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي ، حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، قَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے تھے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آئے (اور روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا کہ کون سا وقت ہے آنے کا (یعنی پہلے سے آتا تھا) تو انہوں نے کہا: مجھے آج کام ہو گیا اور میں گھر میں نہیں گیا تھا کہ اذان سنی تو مجھ سے کچھ نہ ہوا فقط وضو کر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صرف وضو ہی؟ اور تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کا حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ " ؟ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دن جمعہ کا خطبہ لوگوں میں پڑھتے تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آئے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا حال ہو گا ان لوگوں کا جو اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! جب میں نے اذان سنی تو اور کچھ نہیں کیا سوائے وضو کے کہ وضو کیا اور آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صرف وضو ہی! کیا تم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کوئی جمعہ کو آئے تو ضرور نہائے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا نہانا ہر بالغ کو واجب ہے۔“
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ ، فَتَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا " .
لوگ باری باری آتے تھے اپنے گھروں سے اور مدینہ کے بلند محلوں سے اور عبائیں پہنی تھیں (اونٹوں کے بالوں کی) اور ان پر غبار پڑتا تھا اور بدبو نکلتی تھی۔ انہی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم آج کے دن نہایا کرو تو خوب ہو۔“
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ النَّاسُ أَهْلَ عَمَلٍ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ كُفَاةٌ فَكَانُوا يَكُونُ لَهُمْ تَفَلٌ ، فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
لوگ محنتی تھے اور ان کے پاس نوکر چاکر تو تھے ہی نہیں اس لئے ان میں بدبو آنے لگی تو ان کو حکم دیا گیا کہ جمع کے دن نہایا کرو تو خوب ہو۔
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ ، حَدَّثَاهُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَسِوَاكٌ ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ " . إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ : فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر جوان کو جمعہ کے دن نہانا اور مسواک کرنا ہے اور تھوڑی خوشبو لگا لے جتنی ہو سکے۔“ مگر بکیر نے عبدالرحمٰن کا ذکر نہیں کیا اور خوشبو کے بارے میں کہا: اگرچہ عورت کی خوشبو ہو۔