حدیث ۱۹۵۵

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۵۵

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي ، حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، قَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ " .

‏‏‏‏ سیدنا سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے راوی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے تھے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آئے (اور روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا کہ کون سا وقت ہے آنے کا (یعنی پہلے سے آتا تھا) تو انہوں نے کہا: مجھے آج کام ہو گیا اور میں گھر میں نہیں گیا تھا کہ اذان سنی تو مجھ سے کچھ نہ ہوا فقط وضو کر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صرف وضو ہی؟ اور تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کا حکم دیتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں