صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۶ - رات کو بستر پر جانے کا ذکر

رات کے وقت بستر پر جانے سے پہلے تسبیح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱۶

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ ،

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس سند میں ہے: ”جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستروں پر جاؤ۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۶ کا خلاصہ

یہ روایت اسی سونے سے پہلے کے ذکر کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے ہیں کہ جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستروں پر جاؤ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذکر رات کو سوتے وقت پڑھا جاتا ہے۔ اصل ذکر وہی ہے: اللہ اکبر چونتیس بار، سبحان اللہ تینتیس بار اور الحمدللہ تینتیس بار۔ روایت کا انداز مختصر ہے، مگر اس میں وقت کی وضاحت موجود ہے۔ عام آدمی کے لیے اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ رات کے اختتام پر اللہ کا ذکر کر کے سویا جائے۔ یہ ذکر آسان ہے، تعداد واضح ہے، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سکھایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ ذکر رات کو بستر پر جانے کے وقت بتایا گیا ہے۔
  • اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ کی تعداد واضح ہے۔
  • سونے سے پہلے ذکر کرنا اس روایت کا مرکزی پیغام ہے۔
  • یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو وقت کی وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں