صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۷ - تسبیح فاطمہ پر پابندی
تسبیح فاطمہ پر عمل کی پابندی
صحیح مسلم : ۶۹۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۱۷
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ عَلِيٌّ : مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ، قَالَ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ، وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس وظیفہ کو کبھی نہیں چھوڑا،لوگوں نے کہا: صفین کی رات میں بھی (جو بڑی پریشانی کی رات تھی)؟ انہوں نے کہا: صفین کی رات میں بھی میں نے یہ وظیفہ ترک نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث سونے سے پہلے کی تسبیح کے بارے میں ہے، مگر اس میں ایک اضافی بات بھی بیان ہوئی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب سے میں نے یہ وظیفہ نبی صلى الله عليه وسلم سے سنا، میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔ لوگوں نے پوچھا کہ صفین کی رات بھی نہیں؟ انہوں نے کہا کہ صفین کی رات بھی نہیں۔ اس روایت میں اصل عمل وہی ہے جو پہلے بیان ہوا: سونے سے پہلے اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ مخصوص تعداد میں کہنا۔ اضافی بات یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس ذکر پر پابندی کرتے تھے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو مسنون ذکر نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہو، اسے معمول بنانا پسندیدہ طرز عمل ہے، خاص طور پر جب اس کے الفاظ اور وقت صاف بیان ہوں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس ذکر کو نہیں چھوڑا۔
- سونے سے پہلے کی تسبیح ایک مقررہ عمل کے طور پر بیان ہوئی ہے۔
- مشکل رات میں بھی اس ذکر کی پابندی کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم سے سنا ہوا عمل یاد رکھنا اور اس پر قائم رہنا اہم ہے۔
