صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۱ - وضو کے ساتھ سونے کی دعا
سونے کی دعا: وضو، دائیں کروٹ اور اللہ کے سپرد ہونا
صحیح بخاری : ۶۳۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وَضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلِ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ فَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ " ، فَقُلْتُ : أَسْتَذْكِرُهُنَّ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، قَالَ : لَا وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو سونے لگے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر پھر دائیں کروٹ لیٹ جا اور یہ دعا پڑھ «اللهم أسلمت نفسي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رهبة ورغبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت.» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیری اطاعت میں دے دیا۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے۔ خوف کی وجہ سے اور تیری (رحمت و ثواب کی) امید میں کوئی پناہ گاہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجا ہے۔“اس کے بعد اگر تم مر گئے تو فطرت (دین اسلام پر مرو گے پس ان کلمات کو (رات کی) سب سے آخری بات بناؤ جنہیں تم اپنی زبان سے ادا کرو (براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) میں نے عرض کی «وبرسولك الذي أرسلت.» کہنے میں کیا وجہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں «وبنبيك الذي أرسلت» کہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سونے سے پہلے کا ایک واضح عمل بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب بستر پر جاؤ تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرو، پھر دائیں کروٹ لیٹو، پھر یہ دعا پڑھو جس میں بندہ اپنی جان، اپنا معاملہ اور اپنی پشت اللہ کے سپرد کرتا ہے۔ اس دعا میں خوف بھی ہے اور امید بھی، اور یہ اقرار بھی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ ان کلمات کو رات کی آخری بات بنایا جائے۔ آخر میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے الفاظ کی درستی بھی سکھائی کہ وبرسولك کے بجائے وبنبيك الذي أرسلت کہا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے سے پہلے وضو کرنا اس حدیث میں سکھایا گیا ہے۔
- دائیں کروٹ لیٹنا نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت میں آیا ہے۔
- رات کے آخری کلمات دعا اور ایمان کے ہوں۔
- دعا کے الفاظ میں احتیاط بھی دین کا حصہ ہے۔
