صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۲ - سونے اور جاگنے کی دعا

سونے اور جاگنے کی دعا: اللہ کے نام سے آغاز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۲

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ : بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا قَامَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .

حذیفہ بن یمان روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو یہ کہتے «باسمك أموت وأحيا» ”تیرے ہی نام کے ساتھ میں مردہ اور زندہ رہتا ہوں“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”اسی اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے ہمیں زندہ کیا۔ اس کے بعد کہ اس نے موت طاری کر دی تھی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔“ قرآن شریف میں جو لفظ «ننشرها» ہے اس کا بھی یہی معنی ہے کہ ہم اس کو نکال کر اٹھاتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سوتے وقت اور جاگتے وقت کی مختصر مگر معنی خیز دعا بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب بستر پر لیٹتے تو فرماتے: باسمك أموت وأحيا، یعنی تیرے نام کے ساتھ میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔ جب بیدار ہوتے تو اللہ کی حمد کرتے کہ اسی نے ہمیں موت جیسی نیند کے بعد زندگی دی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اس حدیث میں سونے کو بھی اللہ کی یاد سے جوڑا گیا ہے اور جاگنے کو بھی شکر کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ عام مسلمان کے لیے یہ آسان ذکر ہے جو رات اور صبح دونوں کو اللہ سے جوڑتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سوتے وقت اللہ کا نام لینا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
  • جاگنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
  • نیند اور بیداری دونوں اللہ کے اختیار میں ہیں۔
  • آخرت کی واپسی کا خیال روزانہ کے ذکر میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں