صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۳ - بستر پر جانے کی دعا
بستر پر جانے کی دعا: جان اور معاملہ اللہ کے سپرد
صحیح بخاری : ۶۳۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا . ح وحَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى رَجُلًا ، فَقَالَ : " إِذَا أَرَدْتَ مَضْجَعَكَ ، فَقُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَا وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ " .
براء بن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ابواسحاق ہمدانی نے بیان کیا، اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو وصیت کی اور فرمایا کہ جب بستر پر جانے لگو تو یہ دعا پڑھا کرو «اللهم أسلمت نفسي إليك، وفوضت أمري إليك، ووجهت وجهي إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت.» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور اپنا معاملہ تجھے سونپا اور اپنے آپ کو تیری طرف متوجہ کیا اور تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رغبت ہے تیرے خوف کی وجہ سے، تجھ سے تیرے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر جنہیں تو نے بھیجا۔“ پھر اگر وہ مرا تو فطرت (اسلام) پر مرے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک صحابی کو وصیت فرمائی کہ جب بستر پر جانے لگو تو یہ دعا پڑھو۔ اس دعا میں بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی، اپنا معاملہ تجھے سونپا، اپنا رخ تیری طرف کیا، اور اپنی پشت تجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے لگا دی۔ اس میں امید بھی ہے اور خوف بھی۔ پھر بندہ مانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں، اور اللہ کی کتاب اور اس کے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان کا اقرار کرتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ اگر اسی حالت میں وفات ہو تو فطرت پر وفات ہو گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بستر پر جانے سے پہلے اللہ پر بھروسہ تازہ کرنا چاہیے۔
- دعا میں ایمان، خوف اور امید تینوں جمع ہیں۔
- اللہ کے سوا کوئی حقیقی پناہ نہیں۔
- سونے سے پہلے ایمان کے کلمات کہنا بڑی بابرکت عادت ہے۔
