صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۴ - رات کو سونے کی مختصر دعا
رات کو سونے کی دعا: باسمك أموت وأحيا
صحیح بخاری : ۶۳۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۴
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں بستر پر لیٹتے تو اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ کہتے «اللهم باسمك أموت وأحيا» ”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب آپ بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور".» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں زندہ کیا اس کے بعد کہ ہمیں موت (مراد نیند ہے) دے دی تھی اور تیری ہی طرف جانا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا رات کو سونے اور صبح بیدار ہونے کا عمل بیان ہوا ہے۔ جب آپ بستر پر لیٹتے تو اپنا ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے اور فرماتے: اللهم باسمك أموت وأحيا۔ یعنی اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔ پھر جب بیدار ہوتے تو فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی دی اور اسی کی طرف جانا ہے۔ یہ دعا چھوٹی ہے، یاد کرنا آسان ہے، اور سونے جاگنے کے معمول کو اللہ کی یاد، شکر اور آخرت کے خیال سے جوڑ دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کا اختتام اللہ کے نام سے کرنا چاہیے۔
- صبح بیدار ہو کر اللہ کی حمد کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
- نیند کو موت سے ملتی ہوئی حالت سمجھ کر یادِ آخرت تازہ ہوتی ہے۔
- مختصر دعا بھی دل کو اللہ سے جوڑ سکتی ہے۔
