صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۵ - دائیں پہلو پر سونے کی دعا
دائیں پہلو پر سونے کی دعا اور اللہ پر بھروسہ
صحیح بخاری : ۶۳۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۵
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَهُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِهِ ، مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ اسْتَرْهَبُوهُمْ مِنَ الرَّهْبَةِ مَلَكُوتٌ مُلْكٌ مَثَلُ رَهَبُوتٌ خَيْرٌ مِنْ رَحَمُوتٍ تَقُولُ تَرْهَبُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرْحَمَ " .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو دائیں پہلو پر لیٹتے اور پھر کہتے «اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، ونبيك الذي أرسلت.» اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے یہ دعا پڑھی اور پھر اس رات اگر اس کی وفات ہو گئی تو اس کی وفات فطرت پر ہو گی۔ قرآن مجید میں جو «سترهبوهم» کا لفظ آیا ہے یہ بھی «رهبت» سے نکالا ہے ( «رهبت» کے معنی ڈر کے ہیں) «ملكوت» کا معنی ملک یعنی سلطنت جیسے کہتے ہیں کہ «رهبوت»، «رحموت» سے بہتر ہے یعنی ڈرانا رحم کرنے سے بہتر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث سونے کے ایک نبیوی معمول کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب بستر پر لیٹتے تو دائیں پہلو پر لیٹتے، پھر وہ دعا پڑھتے جس میں جان اللہ کے سپرد کی جاتی ہے، چہرہ اللہ کی طرف کیا جاتا ہے، معاملہ اللہ کے حوالے کیا جاتا ہے، اور اللہ ہی کو پناہ مانا جاتا ہے۔ دعا میں رغبت بھی ہے اور رہبت بھی، یعنی امید بھی اور خوف بھی۔ پھر اللہ کی نازل کردہ کتاب اور بھیجے ہوئے نبی پر ایمان کا اقرار ہے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ جو شخص یہ دعا پڑھ کر اسی رات فوت ہو جائے تو فطرت پر وفات پائے گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دائیں پہلو پر لیٹنا اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کے طور پر آیا ہے۔
- سونے سے پہلے اللہ پر بھروسہ اور ایمان کا اقرار کیا جائے۔
- دعا میں امید اور خوف دونوں کا ذکر ہے۔
- رات کی آخری حالت ایمان اور دعا والی ہونی چاہیے۔
