صحیح مسلم حدیث ۸۳۷ - اذان کی ابتدا کا واقعہ
اذان کی ابتدا: بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعلان کا حکم
صحیح مسلم : ۸۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۷
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌمَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ الْمُسْلِمُونَ ، حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، يَجْتَمِعُونَ ، فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
مسلمان جب مدینہ میں آئے تو جمع ہو کر وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور کوئی شخص اذان نہیں دیتا تھا۔ ایک دن مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ اطلاع نماز کے لئے عیسائیوں کی طرح ناقوس بجا لیا کریں یا یہودیوں کی طرح نرسنگا بجا لیا کریں۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ایک آدمی مقرر کر دیا جائے جو لوگوں کو نماز کے لئے مطلع کر دیا کرے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! اٹھو اور نماز کے لئے اعلان کر دو۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو جمع ہو کر وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے، مگر نماز کے لیے اعلان کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ایک دن مشورہ ہوا کہ عیسائیوں کی طرح ناقوس بجایا جائے یا یہودیوں کی طرح نرسنگا استعمال کیا جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ایک آدمی مقرر کیا جائے جو لوگوں کو نماز کے لیے بلائے۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اعلان کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع اذان کی ابتدا ہے۔ اس میں مشورہ، جماعت کی ضرورت اور نماز کے اعلان کا طریقہ سادہ انداز میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز باجماعت کے لیے لوگوں کو اطلاع دینا اہم ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم دینی معاملات میں مشورہ کرتے تھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعلان کا حکم دیا۔
- اذان مسلمانوں کے لیے نماز کی پہچان بنی۔
