صحیح بخاری حدیث ۶۲۳ - بلال کی اذان کے بعد بھی سحری
بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے بعد سحری کھانے کا حکم
صحیح بخاری : ۶۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۳
ح وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
عائشہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رات رہے میں اذان دیتے ہیں۔ عبداللہ ابن ام مکتوم کی اذان تک تم (سحری) کھا پی سکتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سحری اور فجر کے وقت کو سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں، اس لیے تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاص موقع پر بلال رضی اللہ عنہ کی اذان فجر کے شروع ہونے کا اعلان نہیں تھی۔ یہ لوگوں کو جگانے اور تیار کرنے والی اذان تھی۔ حدیث میں کھانے پینے کی اجازت کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان تک جوڑا گیا ہے، اس لیے اصل حد اسی اذان کو بنایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کے وقت میں اصل حد فجر کی اذان ہے۔
- بلال رضی اللہ عنہ کی اذان رات میں دی جاتی تھی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو وقت کے بارے میں واضح بات بتائی۔
- عبادت کے وقت میں غلط فہمی سے بچنا چاہیے۔
